عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم اور ہسپتال منتقل کیا جائے، میڈیکل رپورٹ پر فواد چوہدری کا مطالبہ

کروڑوں لوگوں کے واحد لیڈر کو علاج کی سہولت نہ دینا، قید تنہائی میں رکھنا انتہائی قابل مذمت ہے؛ سابق وفاقی وزیر کا ردعمل

Sajid Ali ساجد علی پیر 17 اگست 2026 16:44

عمران خان کی قیدِ تنہائی ختم اور ہسپتال منتقل کیا جائے، میڈیکل رپورٹ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست2026ء) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپنے ردِعمل میں حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس سلسلے میں فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ انتہائی اہم اور ضروری ہو چکا ہے کہ ان کی قیدِ تنہائی کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں علاج کی بہتر سہولیات کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔

انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں لوگوں کے واحد اور مقبول ترین لیڈر کو علاج کی بنیادی سہولت سے محروم رکھنا اور مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھنا انتہائی قابلِ مذمت اور ناپسندیدہ امر ہے، طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں عمران خان کو درکار تمام طبی سہولیات اور ماحول کی فراہمی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

(جاری ہے)

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے میڈیکل بورڈ نے ان کی صحت، بلڈ پریشر اور بے چینی کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کرکے جیل انتظامیہ کو ارسال کر دی ہیں۔
میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ اور سفارشات میں واضح کیا ہے کہ عمران خان کی موجودہ طبی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جیل کے احاطے اور ماحول میں کچھ نرمی لانا ضروری ہے، بورڈ کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ ان کی بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے۔

اس کے علاوہ معالجین نے سفارش کی ہے کہ سابق وزیراعظم کو باقاعدگی سے پڑھنے کے لیے مختلف میگزینز، اخبارات، مطالعے کی کتب اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی فکری و ذہنی مصروفیت برقرار رہ سکے، اسی طرح میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی ان کے اہلخانہ اور اہلیہ کے ساتھ ملاقاتوں کے حوالے سے بھی اہم سفارشات کی ہیں۔
اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ فیملی ممبرز اور اہلیہ کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ موجودہ مقررہ اجازت اور وقت سے زیادہ اور باقاعدگی کے ساتھ قائم کیا جائے، ان تمام اقدامات سے عمران خان کی بے چینی کو ختم کرنے اور ان کے بلڈ پریشر کو معمول پر لانے میں بڑی مدد ملے گی۔