لاہورکے متعدد علاقوں میں رات کے وقت غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہری پریشان

لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹر اور اعلی افسران کے ”نان پروڈیکٹیو“اخراجات ختم کردیئے جائیں تو نہ صرف لوڈشیڈنگ ختم ہوسکتی ہے بلکہ صارفین کو بلوں میں ریلیف بھی دیا جاسکتا ہے. رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 17 اگست 2026 17:25

لاہورکے متعدد علاقوں میں رات کے وقت غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہری پریشان
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اگست ۔2026 ) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہورکے متعدد علاقوں میں رات کے وقت غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو پریشان کردیا ہے‘لاہور الیکٹرک سپلائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اقبال ٹاﺅن‘سبزہ زار‘جوہرٹاﺅن‘سمن آباد‘ملتان روڈ‘ہربنس پورہ‘مزنگ اور شہر کے دیگر گنجان آباد علاقوں میں دن کے وقت نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی سولرپیدوار کی وجہ سے لیسکو دن کے وقت بجلی سپلائی بحال رکھ پارہی ہے‘تاہم سولرسسٹم بند ہونے کے بعد پاور سپلائی کمپنی اپنے ”نقصانات“کو پورا کرنے کے لیے غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کررہی ہے .

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق فکس چارجز‘ٹیکسوں اورکمپنی چارجزسمیت دیگر سرچارجزمیں کئی سوفیصد اضافوں کے باوجود ”خسارہ یا نقصانات“کا پورا نہ ہونا کمپنی کی نااہلی اور ناقص پالیسی سازی ہے ‘غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود اضافی سرچارج کے ذریعے کمپنی اپنے اہداف سے زیادہ پیسے صارفین سے وصول کرتی ہے تاہم اعلی انتظامی عہدیداروں کے بڑھتے شاہانہ اخراجات کی وجہ سے کمپنی کو ہرچندماہ بعد اضافی پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے.

پی پی آئی بی اور پاورڈویژن کی سرکاری ویب سائٹس پر دستیاب اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملکی ضرورت سے زیادہ بجلی پروڈیوس ہورہی مگر پاور سپلائی کمپنیاں صارفین سے وصولی کے باوجود کم بجلی خرید رہی ہیں خصوصا رات کے اوقات میں اسی لیے انہیں گنجان آباد علاقوں میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے. انہوں نے بتایا کہ لیسکو کا بورڈ آف ڈائریکٹر اور اعلی افسران کے ماہانہ اخراجات کروڑوں روپے میں ہیں جو ”نان پروڈیکٹیو“اخراجات میں شمار ہوتے ہیں‘ان میں تنخواہیں اور مراعات شامل نہیں جبکہ دوسری طرف فلیڈسٹاف کی کمی کا سامنا ہے‘اگر صرف لیسکو کے ”نان پروڈیکٹیو“اخراجات کو ہی ختم کردیا جائے تو نہ صرف فیلڈ سٹاف کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے بلکہ کمپنی بلو ں میں اپنے چارجزکم کرکے صارفین کو بھی ریلیف دے سکتی ہے.

ادھر صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت اور پاور کمپنیاں اپنے خسارے کا رونا روتی ہیں مگر صارفین کے خسارے اور نقصانات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا جنہیں ہر سال کم وولٹیج اور بجلی کے جھٹکے لگنے کی وجہ سے اربوں روپے کے برقی آلات خراب ہونے کی وجہ سے اٹھانا پڑتے ہیں ‘انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسا نظام قائم کرئے جس کے ذریعے ملک بھر سے صارفین اپنے نقصانات کی تفصیل درج کرواسکیں تاکہ ان کو ہونے والا خسارہ بھی سامنے آسکے. صارفین کا کہنا ہے پی ڈی ایم حکومت قائم ہونے سے پہلے جس صارف کا گرمیوں میںماہانہ اوسط بل10ہزار روپے تھا اتنے ہی یونٹ کا بل پچاس ہزار سے اوپرجاچکا ہے جبکہ سردیوں میں اوسط بل دو‘تین ہزارروپے سے پندرہ‘سولہ ہزارپر جاچکا ہے .