آپ دنیا کے سچ نہیں بدل سکے ورنہ 8 فروری کو عوام عمران خان کو ووٹ نہ دیتے، جبران ناصر

آپ ڈنڈا، طاقت، دباؤ، سنسرشپ اور جبر سے معاملات کو کنٹرول کر رہے ہیں لیکن یہ پریشر ککر کبھی تو پھٹے گا، عوام اب سب کچھ جانتے ہیں؛ معروف قانون دان اور سماجی رہنماء کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی پیر 17 اگست 2026 17:26

آپ دنیا کے سچ نہیں بدل سکے ورنہ 8 فروری کو عوام عمران خان کو ووٹ نہ دیتے، ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست2026ء) معروف قانون دان اور سماجی رہنماء جبران ناصر نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، میڈیا سنسرشپ اور عوام پر بڑھتے ہوئے جبر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر طاقت، ڈنڈے اور دباؤ کے باوجود حکومت عوام کے دلوں سے عمران خان کی محبت اور ان کے نظریئے کو ختم کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ اینکر پرسن امیر عباس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ ایک عمران خان ہے، جس کے بارے میں عوام کی کیا رائے ہے، آپ ڈھائی تین سال کا عرصہ گزرنے اور سب کچھ کنٹرول کرنے کے باوجود اسے تبدیل نہیں کرسکے، جب آپ ایک فردِ واحد سے متعلق عوامی رائے تبدیل نہیں کرسکے تو آپ دنیا کا نظریہ کیا بدلیں گے؟ معیشت، آئین اور قانون میں کیا تبدیلی لائیں گے؟ اگر آپ عوام کی رائے بدلنے میں کامیاب ہوئے ہوتے تو ملک کے کروڑوں عوام 8 فروری کو اتنی کثیر تعداد میں عمران خان کو ووٹ ہرگز نہ ڈالتے۔

(جاری ہے)

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ طاقت سے دنیا کا سچ نہیں بدل سکتے، ظالم ہمیشہ مظلوم کو خاموش کروانے اور دبانے کو امن و استحکام کا نام دیتا ہے، اور جب بھی کوئی مظلوم اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی اور تکلیف بیان کرتا ہے تو اسے بدامنی قرار دے کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، آپ ڈنڈے، طاقت، ریاستی دباؤ، سنسرشپ اور جبر کے ذریعے معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ پریشر کُکر کی مانند ہے جو ایک نہ ایک دن لازمی پھٹے گا۔

جبران ناصر نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب تمام حقائق سے اچھی طرح باخبر ہو چکے ہیں، آپ ڈر اور خوف پھیلا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ لوگ آپ کے مکمل کنٹرول میں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام تر سخت سزاؤں، گرفتاریوں اور مقدمات کے باوجود عوام اپنے بنیادی موقف کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔