اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 اگست 2026ء) اکتالیس سالہ عبدالرحمان محمد السید، جو عبدل السید کے نام سے معروف ہیں، اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں، تو وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن سکتے ہیں۔ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار مائیک روجرز سے ہے۔
مشی گن ایک اہم سوئنگ اسٹیٹ ہے، جہاں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے کامیابی کے امکانات مضبوط رہتے ہیں۔ ریاست میں عرب نژاد امریکی اور مسلم آبادی بھی انتخابی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عبدل السید کی الیکشن پرائمری میں کامیابی کے فوراً بعد ان کے بارے میں متعدد جھوٹے آن لائن دعوے پھیلائے گئے، جنہیں بعض معروف سیاسی شخصیات نے بھی فروغ دیا۔
(جاری ہے)
واشنگٹن
اسٹیٹ یونیورسٹی کے صحافت کے پروفیسر اور America & Islam کے مصنف لارنس پنٹک کے مطابق عبدل السید سیاسی غلط معلومات پھیلانے والوں کے لیے ایک آسان ہدف ہیں۔انہوں نے ڈی ڈبلیو کو اپنے ایک تحریری بیان میں بتایا کہ عبدل السید میں وہ تمام عوامل موجود ہیں جنہیں گمراہ کن سیاسی مہموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے: وہ مسلمان ہیں، ترقی پسند ہیں اور اسرائیل کے کھلے ناقد ہیں۔
ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک نے عبدل السید کے خلاف انتخابی بے ضابطگیوں، ان کے سیاسی نظریات اور نائن الیون حملوں سے متعلق مبینہ بیان سمیت اہم دعووں کی جانچ کی۔
فرضی ووٹ کا دعویٰ
فیس بک
پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا: ''یقیناً انہوں نے دھاندلی کی۔ کوئی بھی کمیونسٹوں کو ووٹ نہیں دیتا۔‘‘اس پوسٹ کے ساتھ ایک مضمون بھی شیئر کیا گیا، جس کی سرخی تھی کہ عبدل السید کو صرف ڈیٹرائٹ میں رجسٹرڈ ووٹروں سے تین گنا زیادہ ووٹ ملے۔
مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ عبدل السید کو صرف ڈیٹرائٹ میں 14 لاکھ ووٹ ملے، جبکہ شہر میں تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک: غلط
جس فیس بک اکاؤنٹ نے یہ دعویٰ شیئر کیا، اس کا نام America's Last Line of Defense ہے۔ اس اکاؤنٹ پر خود درج ہے کہ اس صفحے پر شائع ہونے والی کوئی بھی چیز حقیقی نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب اس پیج کا مواد دوسرے صفحات پر شیئر ہوتا ہے، تو یہ وضاحت اکثر غائب ہو جاتی ہے اور جھوٹی معلومات حقیقت کے طور پر پھیلنے لگتی ہیں۔
ایمسٹرڈم یونیورسٹی کے سیاسی ابلاغ کے ماہر مائیکل ہمیلیئرز نے خبردار کیا کہ انتخابی دھاندلی کے ایسے بے بنیاد الزامات جمہوری اداروں اور انتخابات کی شفافیت پر عوام کا اعتماد کمزور کرسکتے ہیں۔
عبدل السید کو ’کمیونسٹ‘ قرار دینے کا دعویٰ
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ عبدل السید کو کمیونسٹ قرار دیا ہے، اور الیکشن پرائمری میں ان کی کامیابی کے فوراً بعد ٹروتھ سوشل پر بھی پر ٹرمپ نے ایسا ہی دعویٰ کیا۔ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک: غلط
عبدل السید کی انتخابی مہم میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ہیلتھ انشورنس، ارب پتی افراد پر ٹیکس میں اضافے اور سیاست میں کارپوریٹ سرمائے کے اثر و رسوخ کو کم کرنے جیسے موضوعات شامل رہے ہیں۔
تاہم عبدل السید ماضی میں خود کو سوشلسٹ یا کمیونسٹ قرار دیے جانے کو مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ''میں سوشلسٹ نہیں ہوں۔
میں صرف ایسا سرمایہ دار ہوں جو سمجھتا ہے کہ سرمایہ داری کس طرح کام کرتی ہے۔‘‘سیاسی تجزیہ کار لارنس پنٹک نے بھی عبدل السید کو کمیونسٹ قرار دینے کے دعوے کو تاریخی اعتبار سے عجیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریپبلکن پارٹی کی اس کوشش کا حصہ ہے جس میں 'ترقی پسند‘ اور 'ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ کو 'کمیونسٹ‘ کا مترادف بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
کیا عبدل السید نے کہا تھا کہ امریکہ نائن الیون کا ’مستحق‘ تھا؟
عبدل السید کے ریپبلکن حریف مائیک روجرز نے دعویٰ کیا کہ عبدل السید ایسے شخص ہیں جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ 9/11 حملوں کا مستحق تھا۔ تاہم ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک میں یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا۔
دراصل انفلوئنسر اور عبدل السید کے حامی حسن پیکر نے 2019 کی ایک لائیو اسٹریم کے دوران کہا تھا کہ امریکہ نے 9/11 حملوں کو ''مستحق‘‘ بنایا تھا۔
اس بیان پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی تھی، حالانکہ بعد میں پیکر نے اپنے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا۔پیکر نے 2026 کی سینیٹ انتخابی مہم میں عبدل السید کی حمایت کی تھی اور ان کے ساتھ ریلیوں اور آن لائن نشریات میں بھی شرکت کی۔
لارنس پنٹک کے مطابق یہ کسی شخص کو 'تعلق کی بنیاد پر قصور وار ٹھہرانے‘ کی ایک مثال ہے، جس میں کسی امیدوار کے حامی کے بیان کو امیدوار کے اپنے خیالات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
مسلمان امیدواروں کے خلاف ’غلط معلومات‘ کا رجحان
پنٹک کے مطابق عبدل السید ایک ایسے وقت پر غلط معلومات کا ہدف بنے ہیں، جب ریپبلکن پارٹی کی سیاسی توجہ ایک بار پھر مسلمان مخالف بیانیے کی جانب منتقل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان امیدواروں اور خاص طور پر عبدل السید کو نشانہ بنایا جانا کوئی نئی بات نہیں۔
انہوں نے 2018 میں مشی گن کے گورنر کے انتخابات کے دوران عبدل السید کے خلاف اسلام مخالف رپورٹنگ اور نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کے بارے میں انہیں انتہا پسند ظاہر کرنے والے جھوٹے دعووں کا حوالہ بھی دیا۔2018 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران پنٹک کی سربراہی میں ایک تحقیقی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مقامی اسکول بورڈز سے لے کر کانگریس تک مسلمان امیدواروں کو منظم انداز میں ایسی سوشل میڈیا مہموں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں اسلاموفوبیا، غیر ملکیوں سے نفرت، نسل پرستی اور صنفی تعصب نمایاں تھے۔
محققین کے مطابق ایسی مہموں کا مقصد اکثر امیدواروں کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور ووٹرز کے اعتماد کو کم کرنا ہوتا ہے۔
ادارت: مقبول ملک