اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 اگست 2026ء) کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اسکول براہ راست بند ہو گئے تھے، لیکن ایران جنگ کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اسکول جانے، اساتذہ کی آمد و رفت اور حکومتوں کے لیے تعلیمی اخراجات پورے کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر پہلے ہی سے غریب ترین خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔
کمبوڈیا کی تیرہ سالہ سو سری نچ کا خواب ٹیچر بننا ہے، لیکن وہ جانتی ہے کہ وہ اپنی تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ اس بچی نے پہلی مرتبہ 10 سال کی عمر میں کلاس روم کا رخ کیا، جبکہ اس عمر تک زیادہ تر کمبوڈیائی بچے کئی سال سے اسکول جا رہے ہوتے ہیں۔ اس کی والدہ نے اسے اس وقت تک اسکول نہیں بھیجا جب تک وہ تیرنے کے قابل نہیں ہو گئی، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اسکول جانے والی کشتی الٹ سکتی تھی۔
(جاری ہے)
یہ خدشہ جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ٹونلے ساپ کے کنارے آباد بہت سے خاندانوں کے لیے معمول کی بات ہے۔ ٹونلے ساپ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے پانی کے راستے سفر کرنا پڑتا ہے۔ اسکول کے اساتذہ کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران 10 طلبہ ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
اگر جنگ جاری رہی تو، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے اختتام تک سو سری نچ جیسے مزید 2 کروڑ 34 لاکھ بچے غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ان میں تقریباً 80 فیصد بچے افریقہ اور ایشیا میں ہوں گے۔آمدن کم، اخراجات زیادہ
ٹونلے ساپ کے بیشتر خاندانوں کی طرح سو سری نچ کا خاندان بھی مچھلی کے شکار پر انحصار کرتا ہے۔ لیکن ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کے لیے گہرے پانیوں تک جانا مشکل بنا دیا ہے، جہاں مچھلی زیادہ مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔
جب گھر میں پیسوں کی کمی ہوتی ہے، تو سری نچ کو ایک یا دو دن اسکول چھوڑ کر والدین کے ساتھ مجبوراﹰ کام کرنا پڑتا ہے۔
ایسے خاندان جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں، جنگ کے بالواسطہ اثرات انہیں مشکل فیصلوں پر مجبور کر رہے ہیں کہ کھانے، ایندھن، کرائے اور بجلی کے اخراجات پورے کیے جائیں یا بچوں کو مسلسل اسکول بھیجا جائے۔
ویتنام کے شمالی ساحلی علاقے میں مچھلی کے شکار سے وابستہ ایک خاندان کی 16 سالہ لی اور 13 سالہ اس کی بہن نی ایسے بچوں میں شامل ہیں، جنہوں نے مالی مشکلات کے باعث اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔
قطر
میں قائم Education Above All Foundation کی صابرینا ہروی کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں لاکھوں بچے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جبکہ لاکھوں دیگر بچے شاید اسکولوں میں داخل ہی نہ کرائے جا سکیں۔ایران جنگ سے دنیا بھر میں تعلیم متاثر
ایسی ترقی پذیر معیشتیں جو درآمد شدہ توانائی پر انحصار کرتی ہیں، جنگ کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں کمی بھی ان کمزور معیشتوں پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ایران
جنگ بنگلہ دیش میں بھی تعلیم کے پھیلاؤ اور غربت میں کمی کے برسوں سے جاری اقدامات کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ مالی مشکلات کے دوران بعض خاندان بیٹوں کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔
Save the Children International کے ارشد ملک کے مطابق معاشی مشکلات کے نتیجے میں مزید لڑکیاں اسکول چھوڑ سکتی ہیں اور کم عمری کی شادیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں کم عمری میں شادی پر مجبور کر دی جانے والی لڑکیوں میں سے 45 فیصد جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتی ہیں، جو دنیا کے دیگر تمام خطوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔
اسکولوں میں مفت کھانا بھی خطرے میں
اقوام متحدہ
کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق دنیا بھر میں 46 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ بچے اسکول میں روزانہ کم از کم ایک وقت کا کھانا حاصل کرتے ہیں۔یہ کھانے بچوں کو اسکول میں رکھنے، ان کی سیکھنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور دماغی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لیکن جنگ کے باعث کھاد کی ترسیل متاثر ہونے اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے ایسے پروگرام بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، خاص طور پر مغربی اور وسطی افریقہ کے ان ممالک میں جو اپنے ہاں خوراک کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
شمالی نائجیریا کے مختلف علاقوں میں صحت اور سماجی امدادی شعبوں کے مقامی کارکنوں کے مطابق بچوں میں دوبارہ غذائی قلت کا شکار ہونے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
صابرینا ہروی نے کہا، ''مجھے واقعی خوف ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک