Live Updates

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ اچھا، بہت پہلے ہونا چاہیے تھا، مولانا فضل الرحمان

منگل 18 اگست 2026 22:56

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) جمعیت علما اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ اچھا ہے، یہ بہت پہلے ہونا چاہیے تھا،اپوزیشن کا فرض ہے کہ حکومتی کمزوریوں کی نشاندہی کرے، صوبوں پر بحث کرنے دیں، اس میں اصولی موقف اور عملی حیثیت کیا ہے،حمایت یا مخالفت کی لکیر کھینچ دینا، ایسی صحافت نے ملکی مسائل کو بگاڑا ہوا ہے۔

منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہائوس کے باہر مولانا فضل الرحمان سے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ اچھا ہے، یہ بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔انہوںنے کہاکہ جس وقت مریض کو صحت کے حوالے سے کوئی شکایت ہو جائے تو اس پر فوری کارروائی ہونی چاہیے تھی،اتنا لمبا عرصہ بلاوجہ ملک کے اندر ایک ایشو پیدا کرنا، اس پر ایک بے قراری سامنے آ جاتی ہے،ان سے وابستہ جو حلقے ہیں، ورکرز اور لوگ، وہ بلاوجہ ایک کرب سے گزر رہے ہوتے ہیں،تو یہ فیصلہ اگر آنا تھا تو بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، اب بھی اگر آیا ہے، دیر آید، درست آید۔

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمن نے جواب دیاکہ ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا ، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں،یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے، اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔

انہوںنے کہاکہ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہی تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں،ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کیلئے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی، چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔

انہوںنے کہاکہ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے، کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہی ۔تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ ایشو پھینکا گیا ہے،اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔

انہوںنے کہاکہ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خوہاہ مخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوںنے کہاکہ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے،تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔

انہوںنے کہاکہ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں،ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے،ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے،ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے،مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے،خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا،یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات