تعمیراتی شعبے کے لیے وزیراعظم کا پیکیج خوش آئند، 40 سے زائد صنعتوں کو فروغ ملے گا، میاں زاہد حسین

سستی فنانسنگ، ون ونڈو نظام اور ٹیکس اصلاحات سے تعمیراتی صنعت کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی جا سکتی ہے، چیئرمین نیشنل بزنس گروپ

بدھ 19 اگست 2026 17:48

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اگست2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لیے جامع ترقیاتی پیکیج کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر اور بروقت اصلاحات کے ذریعے تعمیراتی صنعت کو معاشی ترقی، روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کا بڑا محرک بنایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ کے قیام، کنسٹرکشن ڈیولپمنٹ بینک کے امکانات، تجارتی پالیسیوں میں بہتری اور ٹیکس اصلاحات کی تجاویز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

(جاری ہے)

سرکاری منصوبوں کے معیار اور احتساب کو بہتر بنانے کے لیے ڈیفیکٹ لائبیلٹی پیریڈ میں اضافے کی تجویز بھی مثبت پیش رفت ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ پہلے ہی بحالی کی جانب گامزن ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق تعمیراتی شعبے نے گزشتہ مالی سال 5.7 فیصد ترقی کی، جو ملکی معیشت کے لیے حوصلہ افزا امر ہے۔ تعمیرات کا براہ راست تعلق 40 سے زائد ذیلی اور متعلقہ صنعتوں سے ہے، جن میں سیمنٹ، اسٹیل، شیشہ، سرامکس، کیبلز، برقی سامان، پینٹس، سینیٹری مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور انجینئرنگ سروسز سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 7.2 فیصد اضافے سے 50.5 ملین ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ حجم 47.1 ملین ٹن تھا۔

مقامی سیمنٹ کی فروخت میں بھی 9.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 41.507 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔میاں زاہد حسین کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز پر بھی تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری کا رجحان برقرار ہے۔ جولائی 2026 میں سیمنٹ کی مجموعی ترسیلات 4.476 ملین ٹن رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 6.02 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ مقامی سیمنٹ کی فروخت 17.3 فیصد اضافے سے 3.771 ملین ٹن ہوگئی۔

تاہم سیمنٹ کی برآمدات میں تقریباً 30 فیصد کمی ہوئی اور یہ 705,341 ٹن رہیں، جو عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کی موجودہ بحالی کو محض عارضی مراعات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے طویل المدتی اور پائیدار اصلاحات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ مالی سال 2026-27 کے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے تقریباً ایک کھرب روپے مختص کیے جانے کے تناظر میں ہاؤسنگ، تجارتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں نجی شعبے کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ بورڈ کو محض ایک مزید بیوروکریٹک ادارہ بنانے کے بجائے حقیقی پبلک پرائیویٹ پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دیا جائے، جو قومی تعمیراتی معیار وضع کرنے، منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے، کنٹریکٹرز کے احتساب کو بہتر بنانے اور صنعتی تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے تعاون سے تعمیراتی شعبے کے لیے خصوصی فنانسنگ کا نظام یا ادارہ قائم کیا جائے تاکہ طویل المدتی اور کم لاگت قرضوں کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ون ونڈو منظوری نظام، ٹیکس پالیسی میں بہتری، زمین اور عمارتوں کی منظوری کے عمل میں تیزی، لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور تعمیراتی سامان پر ڈیوٹیز میں کمی جیسے اقدامات صنعت کے لیے دور رس نتائج کے حامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی مراعات کا رخ سستی رہائش، عمودی شہری ترقی، ماحول دوست عمارتوں، زلزلہ پروف تعمیرات، مقامی تعمیراتی مواد اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ہونا چاہیے تاکہ تعمیراتی شعبہ صرف رئیل اسٹیٹ سرگرمی کے بجائے صنعتی ترقی کے اہم محرک کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں 5.7 فیصد ترقی اور مقامی سیمنٹ کی طلب میں نمایاں اضافے سے واضح ہے کہ اس شعبے میں ترقی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ حکومت اگر اصلاحات کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائے تو تعمیراتی صنعت نہ صرف سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے بلکہ اس سے وابستہ درجنوں صنعتوں اور مجموعی ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔