انشورنس صارفین کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی کے نئے مارکیٹ کنڈکٹ رولز کا مسودہ جاری

جمعرات 20 اگست 2026 22:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2026ء) انشورنس صارفین کے حقوق کے تحفظ، کلیمز کی بروقت ادائیگی اور انشورنس کمپنیوں کے طرزِ عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مارکیٹ کنڈکٹ رولز فار انشوررز 2026 کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے جاری کردیا۔ مجوزہ قواعد میں پالیسی کے اجرا سے لے کر کلیم کی پراسیسنگ اور ادائیگی تک انشورنس کمپنیوں کی ذمہ داریوں اور مختلف مراحل کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ رولز کا بنیادی اطلاق انفرادی صارفین کی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا، جبکہ کلیم کے عمل میں غیر ضروری تاخیر اور صارفین سے غیر متعلقہ دستاویزات طلب کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

مسودے کے مطابق لائف انشورنس کلیم پر تمام مطلوبہ دستاویزات اور وضاحتیں موصول ہونے کے بعد کمپنی کو 20 ورکنگ دن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر کلیم کی تحقیقات ضروری ہوں تو تحقیقات بھی 20 ورکنگ دن میں مکمل کرکے مزید 10 ورکنگ دن میں کلیم کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

کلیم مسترد کرنے کی صورت میں صارف کو وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا لازمی ہوگا۔نان لائف انشورنس میں موٹر کلیمز پر حتمی سروے رپورٹ موصول ہونے کے بعد پانچ ورکنگ دن جبکہ دیگر کلیمز پر سات ورکنگ دن میں فیصلہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ہیلتھ انشورنس میں ہسپتال میں داخل مریض کے کلیم کو ضروری دستاویزات مکمل ہونے کے بعد 20 ورکنگ دن میں نمٹانا ہوگا۔

ہسپتال سے ڈسچارج کی درخواست موصول ہونے پر انشورنس کمپنی کو تین گھنٹے کے اندر حتمی منظوری دینا ہوگی، جبکہ کمپنی کی جانب سے تاخیر کے باعث مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جا سکے گا۔مجوزہ قواعد کے تحت انشورنس کمپنی صرف وہی دستاویزات طلب کرسکے گی جو کلیم سے براہِ راست متعلق ہوں۔ انڈر رائٹنگ کے مرحلے پر درکار دستاویزات بعد میں طلب نہ کیے جانے کی بنیاد پر کلیم مسترد نہیں کیا جا سکے گا۔

کلیم کی اطلاع موصول ہونے کے سات ورکنگ دن کے اندر کمپنی کو کلیم کی وصولی کی تصدیق، ریفرنس نمبر، متعلقہ رابطہ معلومات، متوقع پراسیسنگ ٹائم اور مطلوبہ دستاویزات کی تفصیل فراہم کرنا ہوگی۔صارفین کو مزید باخبر بنانے کے لیے انشورنس کمپنیوں کو اپنی کلیمز کارکردگی عوام کے سامنے لانے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹس اور سالانہ رپورٹس میں کلیم سیٹلمنٹ، مسترد شدہ کلیمز، زیر التوا کلیمز اور ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کا تناسب ظاہر کرنا ہوگا۔

مجوزہ قواعد میں نئی پالیسی کی درخواست پر سات ورکنگ دن میں فیصلہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ لائف انشورنس پالیسی کی دستاویزات مطلوبہ شرائط پوری ہونے اور پریمیم وصول ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ 20 ورکنگ دن میں جاری کرنا ہوں گی۔ڈیجیٹل ذرائع یا ٹیلی مارکیٹنگ کے ذریعے فروخت ہونے والی پالیسی کی دستاویزات زیادہ سے زیادہ تین ورکنگ دن میں جاری کرنا ہوں گی۔

موٹر انشورنس میں کمپنی کو پالیسی کے اجرا یا تجدید سے قبل صارف کو گاڑی کی موجودہ تخمینی مارکیٹ ویلیو سے آگاہ کرنا ہوگا۔ صارف کو اوور انشورنس یا انڈر انشورنس کی صورت میں کلیم پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔منظور شدہ موٹر گاڑی کی مرمت عمومی حالات میں تخمینے کی منظوری کے بعد 15 ورکنگ دن کے اندر مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مکمل تباہ یا معاشی طور پر ناقابلِ مرمت گاڑیوں کے کلیمز کے لیے بھی واضح تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔

مجوزہ رولز کے تحت نان لائف انشورنس پالیسی ہولڈر کو مقررہ شرائط کے تحت پالیسی کی مدت کے دوران بغیر وجہ بتائے پالیسی منسوخ کرنے اور باقی مدت کا پریمیم واپس لینے کا حق حاصل ہوگا۔دوسری جانب انشورنس کمپنی پالیسی صرف فراڈ پر مبنی غلط بیانی یا حقائق چھپانے کی بنیاد پر منسوخ کرسکے گی، جبکہ پالیسی ہولڈر کو کارروائی سے قبل جواب دینے کے لیے کم از کم 15 ورکنگ دن فراہم کرنا ہوں گے۔

مجوزہ قواعد کی خلاف ورزی پر انشورنس کمپنی اور دانستہ طور پر خلاف ورزی میں شریک ذمہ دار افسران پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ایس ای سی پی نے ایس آر او 1377(I)/2026 کے ذریعے مجوزہ قواعد پر عوام، انشورنس انڈسٹری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے 30 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں۔ موصول ہونے والی آرائ کا جائزہ لینے کے بعد قواعد کو حتمی منظوری کے متعلقہ عمل کے لیے پیش کیا جائے گا۔