راشد منہاس شہید کی 55ویں برسی، دفاعِ وطن کی لازوال داستان آج بھی زندہ

جمعرات 20 اگست 2026 22:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2026ء) پاکستان کی دفاعی تاریخ میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، نشانِ حیدر، کا نام جرات، حب الوطنی اور فرض شناسی کی ایسی لازوال مثال کے طور پر زندہ ہے جس نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے ملک کی تاریخ میں سنہرا باب رقم کیا۔ ان کا 55واں یومِ شہادت آج اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 14 مارچ 1971 کو پاکستان ایئر فورس کے 51ویں جی ڈی پی کورس میں کمیشن حاصل کیا، جس کے بعد انہیں آپریشنل کنورڑن کورس کے لیے ماری پور، موجودہ مسرور ایئر بیس، میں واقع نمبر 2 اسکواڈرن میں تعینات کیا گیا۔

(جاری ہے)

20 اگست 1971 کو راشد منہاس شہید نے تربیتی پرواز کے لیے مسرور ایئر بیس سے اڑان بھری۔

اسی دوران انسٹرکٹر پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان نے طیارے کو ہائی جیک کرکے بھارت لے جانے کی کوشش کی۔راشد منہاس شہید نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے طیارے کا رخ واپس پاکستان کی جانب موڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ بھارتی سرحد سے تقریباً 40 میل کی مسافت پر بھی انہوں نے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے اور اسے دشمن کی جانب جانے سے روکنے کی جدوجہد جاری رکھی۔

بالآخر راشد منہاس شہید نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر طیارے کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا، جس کے نتیجے میں طیارہ بھارتی سرحد سے تقریباً 32 میل دور گر کر تباہ ہوگیا۔ یوں انہوں نے اپنی جان قربان کرکے طیارے کو دشمن ملک لے جانے کی سازش ناکام بنا دی۔راشد منہاس شہید کی یہ عظیم قربانی اس عزم کی روشن مثال بن گئی کہ وطن کی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اپنی جان مادرِ وطن پر قربان کردی لیکن پاکستان کے وقار پر آنچ نہیں آنے دی۔پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کی بے مثال شجاعت اور فرض شناسی انہیں پاکستان کی دفاعی تاریخ کے عظیم سپوتوں میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔ ان کی لازوال داستانِ قربانی پاک فضائیہ کے جوانوں اور پوری قوم کے لیے آج بھی حب الوطنی، وفاداری اور دفاعِ وطن کے جذبے کا سرچشمہ ہے۔