اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ایس ای سی پی کا ونچر کیپیٹل بل تجویز

پیر 24 اگست 2026 14:53

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ونچر کیپیٹل بل کا مسودہ عوامی مشاورت کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کو بھجوا دیا۔مجوزہ قانون کا بنیادی مقصد پاکستان میں اسٹارٹ اپس، ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی کاروباروں میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، نئے کاروباروں کی ترقی میں معاونت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان میں اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم نوجوان کاروباری افراد اور نئے کاروباروں کو باضابطہ ونچر کیپیٹل تک رسائی محدود ہے۔

(جاری ہے)

ہائی گروتھ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو سرمائے کے حصول کے لیے اکثر بیرون ملک یا موجودہ ملکی ریگولیٹری نظام سے باہر کے ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے ایس ای سی پی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کو مشترکہ طور پر ونچر کیپیٹل کے لیے ایک مؤثر ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے اور اسٹارٹ اپس و تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سرمایہ تک رسائی آسان بنانے کی ہدایت کی تھی۔مجوزہ بل میں ونچر کیپیٹل فنڈز اور فنڈ منیجرز کے لیے سادہ، شفاف اور کاروبار دوست ریگولیٹری نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے تحت آسان لائسنسنگ اور رجسٹریشن، سادہ آپریشنل ڈھانچے جبکہ گورننس اور رپورٹنگ کے واضح تقاضے وضع کیے جائیں گے، جس سے ونچر کیپیٹل سرگرمیوں کو پاکستان کے باضابطہ مالیاتی نظام کا حصہ بنانے میں مدد ملے گی۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے نجی سرمایہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے کاروباروں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ونچر کیپیٹل سرمایہ کاری کی زیادہ خطرے اور جدت پر مبنی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیٹری رکاوٹیں کم کرنے کے ساتھ مؤثر گورننس اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔اگلے مرحلے میں ایس ای سی پی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے بل کے مسودے پر اسٹارٹ اپس، فنڈ منیجرز، قانونی و مالیاتی ماہرین، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور متعلقہ صنعتی و کاروباری تنظیموں سمیت اہم فریقین سے مشاورت کی جائے گی۔عوامی مشاورت مکمل ہونے کے بعد مسودہ قانون سازی کے آئندہ مراحل کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا جائے گا۔