بی ایف سی اسلام آباد میں سال کے دوران کاروبار و سرمایہ کاری بارے 7709درخواستیں موصول ہوئیں، قیصر احمد شیخ

4,920 درخواستوں کو مقررہ مدت کے اندر نمٹایا ، ایک سال کے دوران 4,100 سے زائد نئے کاروباروں کو سہولت فراہم کی گئی

پیر 24 اگست 2026 20:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ کاروباری سہولت کاری مرکز (بی ایف سی)اسلام آباد سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو ایک ہی چھت تلے سرکاری خدمات کی فراہمی کے ذریعے کاروباری ماحول کو آسان اور سرمایہ کاری دوست بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو بی ایف سی اسلام آباد کے دورے ، مرکز کی ایک سالہ کارکردگی اور کاروباری سہولت کاری کے نتائج کے جائزے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بی ایف سی اسلام آباد میں ایک سال کے دوران کاروباری و سرمایہ کاری سے متعلق 7,709 درخواستیں موصول ہوئیں، مرکز کے ذریعے 6,896 رجسٹریشنز، لائسنسز، سرٹیفکیٹس اور دیگر اجازت نامے جاری کیے گئے۔

(جاری ہے)

قیصر احمد شیخ نے کہا کہ بی ایف سی نے 4,920 درخواستوں کو مقررہ مدت کے اندر نمٹایا جبکہ ایک سال کے دوران 4,100 سے زائد نئے کاروباروں کو سہولت فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بی ایف سی کی سہولت کاری کے نتیجے میں 6.6 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی اور 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع کی سہولت کاری کی گئی۔وفاقی وزیر کے مطابق ایک سال کے دوران بی ایف سی اسلام آباد میں 8,554 افراد کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی جبکہ 845 کیسز میں ماہرین کی خصوصی رہنمائی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 2025 میں سب سے زیادہ 1,288 درخواستیں موصول ہوئیں۔

ا ن کا کہنا تھا کہ کاروباری سہولت کاری مرکز سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو مختلف سرکاری محکموں سے متعلق خدمات ایک ہی جگہ فراہم کر رہا ہے جس سے انہیں دفاتر کے چکر لگانے اور پیچیدہ طریقہ کار سے نجات مل رہی ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے طریقہ کار کو آسان اور سہولت کاری کے نظام کو مزید مثر بنا رہی ہے، بی ایف سی کا ایک سالہ کامیاب آپریشن سرمایہ کار دوست ماحول کے قیام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ون ونڈو سہولت کے ذریعے کاروباری افراد کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کی جا رہی ہیں۔