سا نحہ پمز قدرتی حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت تھی، مہر بخاری

آگ کہیں بھی لگ سکتی ہے، کسی نجی ہسپتال، گھر یا کسی بھی جگہ آگ لگ سکتی ہے، لیکن اگر آگ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات موجود نہ ہوں تو یہ غفلت، بلکہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے، اینکر پرسن کی گفتگو

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 28 اگست 2026 11:29

سا نحہ پمز قدرتی حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت تھی، مہر بخاری
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اگست2026ء)   اینکر پرسن مہر بخاری کا پمز ہسپتال میں پیش آنے والے سانحے پر کہنا ہے کہ وہ بھی پمز سے واپس آئی ہیں اور چند گھنٹے وہاں گزارنے، کچھ والدین سے ملنے اور پوری جگہ کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتی ہیں کہ یہ حادثہ نہیں تھا، یہ غفلت تھی۔ مہر بخاری نے کہا کہ آگ کہیں بھی لگ سکتی ہے، کسی نجی ہسپتال، گھر یا کسی بھی جگہ آگ لگ سکتی ہے، لیکن اگر آگ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات موجود نہ ہوں تو یہ غفلت، بلکہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق حفاظتی انتظامات ناکافی، غیر معیاری اور مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والے نہیں تھے۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سات ایمرجنسی راستے مستقل طور پر بند تھے، جبکہ سیکیورٹی اسٹاف کی جانب سے بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی تھیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی حفاظتی پروٹوکولز ہی موجود نہیں تھے۔

 
مہر بخاری نے کہا کہ ایک ماں کی حیثیت سے وہ سمجھ سکتی ہیں کہ نو ماہ تک بچے کو اپنے اندر رکھنے کے بعد والدین کے دل میں کتنی امیدیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا چند دن، ہفتے یا مہینوں بعد آگے بڑھ جاتی ہے، لیکن بچے کو کھونے کا درد اور اندر کا خلا کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ متاثرہ والدین سے ملی ہیں، جہاں ایک باپ نے اپنے دو بیٹوں کی باقیات دکھائیں، جو صرف کالی راکھ اور ہڈیوں پر مشتمل تھیں اور پہچانی بھی نہیں جا سکتی تھیں۔

مہر بخاری نے کہا کہ جو لوگ کہہ رہے تھے کہ بچے دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے، وہ صرف دم گھٹنے سے نہیں مرے بلکہ آگ میں جھلس کر ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 خاندان اپنے گھروں میں اپنے ننھے بچوں کی جھلسی ہوئی لاشیں، کچھ صرف ہڈیاں اور راکھ لے کر گئے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم اور کابینہ اپنے علاج کے لیے سرکاری ہسپتال استعمال کریں اور ان کے بچوں سمیت آنے والی نسلوں کا علاج بھی سرکاری ہسپتالوں میں ہو تو حفاظتی سرٹیفکیشن، نظام اور ایس او پیز بہتر ہوں گے۔