عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ کی طویل خاموشی، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں مثبت پیشرفت کی امید

انتہائی جارحانہ پیغامات میں کمی، خصوصاً فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت پر تنقید میں کمی، سیاسی معاملات کو معمول پر لانے کے لیے گنجائش پیدا کر سکتی ہے، انصار عباسی کی رپورٹ

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 28 اگست 2026 12:06

عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ کی طویل خاموشی، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اگست2026ء) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ کی پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جاری خاموشی کو پارٹی کے اندر ممکنہ مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ عمران خان کے ذاتی ایکس اکاؤنٹ @ImranKhanPTI پر پانچ ماہ سے زائد عرصے سے براہ راست ان سے منسوب کوئی نیا پیغام پوسٹ نہیں کیا گیا۔

اس نوعیت کا آخری پیغام 21 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا تھا، جب عمران خان کے بیٹوں نے ان سے فون پر بات کرنے کے بعد ان کی جانب سے ایک بیان پوسٹ کیا تھا۔ صحافی انصار عباسی کے مطابق یہ طویل وقفہ اس لیے قابل ذکر ہے کیونکہ اس سے قبل عمران خان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ، خصوصاً فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف، سخت انداز میں استعمال ہوتا رہا تھا۔

(جاری ہے)

سیاسی محاذ آرائی کے دوران ان سے منسوب پیغامات باقاعدگی سے سامنے آتے اور پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیلائے جاتے تھے۔

پی ٹی آئی کے اندر ایسے افراد، جو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے کم کرنا چاہتے تھے، ان پیغامات پر ناراض تھے کیونکہ ان میں فوجی قیادت پر سخت تنقید کی جاتی تھی۔ دسمبر 2025 میں صورتحال خاص طور پر کشیدہ ہوگئی تھی، جب فوج نے سرعام عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ جیل میں ملاقات کرنے والوں اور سوشل میڈیا کو مسلح افواج پر حملوں اور تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق انتہائی جارحانہ پیغامات میں کمی، خصوصاً فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت پر تنقید میں کمی، سیاسی معاملات کو معمول پر لانے کے لیے گنجائش پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ عمران خان کے اکاؤنٹ کی خاموشی کو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی سیاسی معاہدے یا مفاہمت کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق پُرسکون پیغام رسانی کا ماحول صرف معمول کی سیاست کی بحالی کے لیے گنجائش پیدا کر سکتا ہے، بشرطیکہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ عمران خان کی بہنیں، خصوصاً علیمہ خان، ان سے ملاقاتوں کے بعد ان کے خیالات عوام تک پہنچاتی رہی ہیں، جس پر حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔