سینیٹر پلوشہ خان کا پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار

پمزایک عقوبت خانہ ہے، اس سے اچھا ہے میں گھر میں مر جاﺅں.سینیٹر پلوشہ خان کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 28 اگست 2026 15:59

سینیٹر پلوشہ خان کا پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 اگست ۔2026 ) سینیٹر پلوشہ خان نے پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پمز ایک عقوبت خانہ ہے، اس سے اچھا ہے میں گھر میں مر جاﺅں تفصیلات کے مطابق سینیٹر پلوشہ خان نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں پمز ہسپتال میں نرسری آتشزدگی کے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال کے انتظامی نظام اور مبینہ غفلت پر سوالات اٹھا دیے.

(جاری ہے)

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ پمز ایک عقوبت خانہ ہے، اس سے اچھا ہے میں گھر میں مر جاﺅں انہوں نے کہا کہ یہ موقف درست نہیں کہ بجٹ کے پیسے موجود نہیں تھے، ہسپتال کے معاملات کا آڈٹ ہونا چاہیے اور اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے اس کا حساب لیا جائے ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے جب اللہ کے پاس جائیں گے،ان کے منہ سے نکلنے والی آہ سب کو جلا دے گی. سینیٹر پلوشہ نے کہا نہیں پتہ سسٹم کون ٹھیک کرے گا لیکن ان 14 بچوں کو تو قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے تھا، سسٹم ناکام ہونے کے قصور وار یہ معصوم بچے نہیں تھے انہوں نے کہا کہ سسٹم ناکام ہونے کے قصوروار معصوم بچے نہیں تھے، ان 14 بچوں کو قربانی کا بکرا نہیں بننا چاہیے تھا.

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ سسٹم نہیں چل رہا توچھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ انتظامیہ کی غفلت سے 14 بچوں کی جان گئی ، ملک کے دیگر ہسپتالوں کوبھی دیکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے جواب دہی ضروری ہے.