وفاقی وزیروں اور پمزانتظامیہ نے کہا آگ ایئرکنڈیشنر سے لگی، آج پتا چلا کہ اے سی تو چل ہی نہیں رہا تھا. ڈاکٹررمیش کمار

حاضری کے لیے نصب بائیو میٹرک سسٹم کے اوپرنصب کیمرے کی فوٹیج بھی حاصل نہیں کی گئی ‘ حاضری سسٹم کے قریب نصب کیمرے کے علاوہ زچہ بچہ مرکزسمیت ہسپتال کے کئی اہم ایریازکے کیمرے خراب پڑے ہیں. اردوپوائنٹ کی خصوصی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 28 اگست 2026 14:48

وفاقی وزیروں اور پمزانتظامیہ نے کہا آگ ایئرکنڈیشنر سے لگی، آج پتا چلا ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 اگست ۔2026 ) وفاقی وزیروں اور پمزانتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ آگ ایئرکنڈیشنر سے لگی، آج پتا چلا کہ اے سی تو چل ہی نہیں رہا تھا، لگتا ہے کہ تمام نرسوں کو بٹھا کر ایک بیان رٹا دیا گیا ہے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین ڈاکٹررمیش کمار نے ہسپتال کے دورے کے دوران پمزانتظامیہ اور وفاقی وزیرصحت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے کمیٹی نے پمز سانحہ کا جائزہ لیا، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور عملے کی معطلی اور وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا.

(جاری ہے)

دوسری جانب وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جس میں پمز ہسپتال کے افسران اور عملہ کی غفلت ثابت ہوئی ہے وزیر اعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں عملہ اور افسران کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، کمیٹی نے آگ کی اطلاع اور فائر بریگیڈ کے پہنچنے کی ٹائم لائن بھی چیک کی. رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیم کو رکاوٹوں کاسامنا کرنا پڑا، تالے لگے ہوئے تھے، ٹیکنیکل سٹاف موجود نہیں تھا، آگ بجھانے کے مناسب آلات بھی نہیں تھے، ریسکیو ٹیم کو دیواریں توڑ کر اندر جانا پڑا رپورٹ میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ہسپتال کا عملہ بھی ایمرجنسی صورتحال کے حوالہ سے غیر تربیت یافتہ تھا وزیراعظم کی قائم کمیٹی کو دیئے گئے 48 گھنٹے آج مکمل ہورہے ہیں، کمیٹی پانچ روز میں تفصیلی رپورٹ دے گی.

قبل ازیں وزیراعظم کی کمیٹی نے تیس سے زائد ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹرز اور نرسز بھی شامل ہیں، چلڈرن وارڈ میں تعینات اٹھارہ سے زائد سکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے. کمیٹی نے حادثے کے وقت آن ڈیوٹی عملے کا بائیو میٹرک ریکارڈ بھی چیک کیا، آگ بجھانے کیلئے جانے والے فائر بریگیڈ کے عملے، ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ڈائریکٹر فائر بریگیڈ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا، کمیٹی نے ریسکیو ٹیمیں کی ٹائم لائن بھی چیک کی.

دوسری طرف سی ڈی اے نے فائر سیفٹی انتظامات کے لیے دوبارہ خط لکھ دیے ہیں جبکہ پمز سانحے کے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کے ساتھ ساتھ پمز ہسپتال کی انتظامیہ نے اپنی ایک انکوائری کمیٹی الگ بنادی ہے. گزشتہ روز کمیٹی نے ہسپتال کی نرسری کا سی سی ٹی وی ریکارڈ قبضے میں لیا، پمز کے عملے کے بیانات قلمبند کیے، کمیٹی نے فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا ادھر انکشاف سامنے آیا ہے کہ کمیٹی نے گزشتہ روز سی سی ٹی وی ریکارڈ قبضے میں لیا تھا تاہم ملازمین کی حاضری کے بائیومیٹرک سسٹم پر کسی نے توجہ نہیں دی ‘اس کے علاوہ حاضری کے لیے نصب بائیو میٹرک سسٹم کے اوپرنصب کیمرے کی فوٹیج بھی حاصل نہیں کی گئی .

ذرائع کے مطابق ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حاضری سسٹم کے قریب نصب کیمرے کے علاوہ زچہ بچہ مرکزسمیت ہسپتال کے کئی اہم ایریازکے کیمرے خراب پڑے ہیں‘ادھروفاقی سیکرٹری صحت کی جانب سے لگائے جانے کیمپ میں کرسیاں پڑی اور سائل آرہے ہیں مگر وہاں پر وفاقی سیکرٹری یا ان کا عملہ موجود نہیں ہے. بتایا گیا ہے کہ وفاقی سیکرٹری کے بیان کے فوری بعد وزارت صحت نے پمزمیں ٹینٹ نصب کرکے وہاں سیکرٹری صاحب کے شایان شان کرسی بھی رکھ دی تھی تاہم قائمقام وفاقی سیکرٹری یا ان کے عملے کے کسی بھی فردنے کیمپ کو رونق نہیں بخشی تاہم سائلین ہر وقت درخواستیں لے کر وہاں موجود ہوتے ہیں.