اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 اگست 2026ء) متاثرہ علاقوں کے لوگ اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک حکومتی وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ ریاست اتنے بڑے پیمانے کی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھی۔
کٹھمنڈو میں مقیم صحافی بدھیا راجپوت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ نیپال کے ضلع نوا کوٹ کے گاؤں سولے میں واقع ان کا آبائی گھر دریائے تریشولی کے سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔
انہوں نے کہا، ''جہاں تک ہماری معلومات ہیں، سولے گاؤں کے صرف چار یا پانچ افراد پہاڑی علاقوں کی طرف بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ باقی لوگ محفوظ مقام تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ سیلاب اچانک آیا اور بہت تیزی سے سب بہا کر لے گیا۔
(جاری ہے)
‘‘
حکام کے مطابق نوا کوٹ، راسوا اور دھادنگ ان اضلاع میں شامل ہیں، جو تباہ کن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
ایک متاثرہ خاتون راجپوت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے شوہر کے والدین تاحال لاپتا ہیں۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق ان کے سسر، جو پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہیں، ممکنہ طور پر ڈیوٹی سے واپس آتے ہوئے سیلابی ریلے کی زد میں آ گئے تھے۔
راجپوت کے شوہر، سڑکوں کی تباہی اور کئی راستوں کے بہہ جانے کے باوجود، اپنے اہل خانہ کی تلاش میں گاؤں روانہ ہو چکے ہیں۔
راجپوت کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح سے بجلی اور موبائل فون سروس بند ہونے کے باعث گاؤں سے کوئی نئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ان کے بقول، ''ریاستی امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کا زیادہ تر رخ بڑے شہروں کی جانب ہے، جبکہ سولے گاؤں تک سرکاری مدد ابھی نہیں پہنچ سکی۔‘‘
متاثرہ اضلاع کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے گزشتہ سال بھی سیلاب سے متاثر ہوئے تھے تاہم اس وقت بہت سے لوگ بروقت بلند مقامات پر منتقل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور پانی کی سطح بھی اتنی بلند نہیں تھی۔
راجپوت کے مطابق، ''اگر لوگوں کو بروقت وارننگ مل جاتی اور انہیں اندازہ ہوتا کہ اس بار سیلاب اتنا شدید ہوگا تو وہ گزشتہ سال کی طرح محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکتے تھے۔ مگر اس مرتبہ انہیں یہ موقع بھی نہیں ملا۔‘‘
''میرے دو قریبی رشتہ دار لاپتا ہیں‘‘
نوا کوٹ سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن سیاست دان اُوشا کرن تیمسینا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پولیس اور مقامی حکام نے بڑے سیلاب کے خدشے سے متعلق پیشگی وارننگ جاری کی تھی، تاہم بہت سے لوگوں کو پانی کے ریلے کی شدت اور رفتار کا اندازہ نہیں ہو سکا۔
ان کے بقول، ''جو لوگ دریاؤں سے نسبتاً دور رہتے تھے، انہوں نے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور جب سیلاب ان کے علاقوں تک پہنچا تو ان کے پاس محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا وقت نہیں تھا۔‘‘
تیمسینا نے بتایا کہ ان کے دو قریبی رشتہ دار گزشتہ روز صبح سے لاپتا ہیں اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
حکام کے مطابق سیلاب کے باعث تین درجن سے زائد پل تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ درجن بھر پن بجلی منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
دھادنگ سے تعلق رکھنے والے سُجن لوہانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں کبھی تصور بھی نہیں تھا کہ دریائے تریشولی میں آنے والا سیلاب وسیع پیمانے پر اتنی بڑی تباہی مچا سکتا ہے۔
ان کے ضلع کے صدر مقام کو دارالحکومت کٹھمنڈو سے ملانے والا مرکزی پل بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔
لوہانی نے کہا، ''میرا ایک کزن اس وقت گاؤں میں موجود ہے اور میں اس کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہوں۔ ہمارا کٹھمنڈو سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔‘‘
سینکڑوں افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا
نیپال کے حکام متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے تیزی سے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جمعرات تک ایک ہزار تین سو سے زائد افراد لاپتا تھے، جن میں سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال میں نیپال کے پڑوسی ممالک بھارت اور چین بھی امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں کٹھمنڈو کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ریسکیو ٹیمیں پھنسے ہوئے اور زخمی افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دارالحکومت منتقل کر رہی ہیں، جبکہ پولیس، فوج اور مقامی رضاکار بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کرنے میں مصروف ہیں۔
نیپال کے وزیر اطلاعات و مواصلات بکرم تیمیلسینا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم زندہ بچ جانے والے افراد کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ''پورے کے پورے گاؤں سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ بہت سے لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد افراد کا اب بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
‘‘تیمیلسینا کے بقول، ''شاید ریاستی اداروں نے کبھی اتنے بڑے پیمانے کی آفت اور سیلاب کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے تمام دستیاب وسائل متحرک کر دیے ہیں۔ ایک درجن سے زائد ہیلی کاپٹر متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس وزیر کے مطابق جمعرات کی دوپہر تک 164 غیر ملکیوں سمیت کم از کم 414 افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا تھا۔سیلاب کی وجہ کیا بنی؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟
اس تباہ کن سیلاب کی اصل وجہ پر سائنس دانوں میں ابھی مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔
اگرچہ چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آفت ایک بلند پہاڑی گلیشیئر کے منہدم ہونے سے شروع ہوئی، تاہم ماہرین اب بھی مختلف شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔نیپال کی تری بھون یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنس کے شعبے سے وابستہ ماہر موسمیات اور ماحولیاتی سائنس دان سدیپ تھاکوری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق سیلاب کی شروعات غالباً نیپال اور چین کی سرحد کے نیپالی حصے میں ایک بڑے برفانی تودے کے گرنے سے ہوئی۔
ان کے بقول، ''اب تک کے شواہد سے لگتا ہے کہ ایک بڑے برفانی تودے نے ابتدا میں تبت سے جنوب کی جانب بہنے والے ایک دریا کا راستہ روک دیا تھا۔ بعد ازاں جب اس ملبے سے بننے والا قدرتی بند ٹوٹا تو اس نے نیچے واقع ایک برفانی جھیل بھی بہہ نکلی، جس سے شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔‘‘
دوسری جانب کٹھمنڈو یونیورسٹی کے ماہر موسمیات رجن راج کایستھا نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں موجود دیگر برفانی جھیلوں کے باعث مزید سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔