بھارتی قبضے میں کشمیری جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، حریت کانفرنس

جمعہ 28 اگست 2026 17:17

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے علاقے میں جاری مسلسل جاری بھارتی جبر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قبضے میں کشمیری جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو فوجی طاقت کے بل پر دبانے کی اپنی مذموم پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے کے اطراف واکناف میں جاری محاصرے اور تلاشی کی اپنی بلاجواز کارروائیوں، چھاپوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے زریعے علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول قائم کررکھا ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کیلئے ان کے گھروں ، زمییوں اور دیگر املاک پر قبضے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری انسانیت کے خلاف جاری جاری سنگین بھارتی جرائم کا نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے نئی دلی پر دبائو ڈالیں۔حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر نازک ہمالیائی خطے کا ایک اہم حصہ ہے مگر ہم جس بے احتیاطی کے ساتھ ترقی کے نام پر اپنے قدرتی ماحول کا استحصال کر رہے ہیں وہ نہایت تشویشناک ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نما ز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں نیپال میں سیلاب سے ہونے والی شدید تباہی اور قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی سڑکوں ، سرنگوں اور دیگر تعمیراتی کاموں کے لیے پہاڑوں اور جنگلات کو بے دریغ کاٹا جا رہاہے جس کے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔

میرواعظ نے کہا کہ آج ماحول کا تحفظ محض قدرتی وسائل کے تحفظ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی جانوں، گھروں اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔مقبوضہ جموں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ساٹھ ہزار سے زائد ملازمین نے اپنی مستقلی میں حکام کے تاخیری حربوں کے خلاف یکم ستمبر کو احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ’’ڈیلی ویجز فورم ‘‘کے صدر سجاد احمد پرے نے سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر قابض انتظامیہ نے انکے مطالبات کے حوالے سے فوری طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تواحتجاج کے ساتھ ساتھ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بھی مجور ہونگے۔

بھارتی فوجیوں نے ضلع بارہ مولہ کے علاقے کنزرمیں ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا۔ بھارتی فورسز نے ضلع راجوری کے علاقے نوشہرہ میں محاصرے اورتلاشی کی کارروائی شروع کردی۔ حکام نے کہا کہ تلاشی آپریشن علاقے میں مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات پر شروع کیا گیا۔ ضلع بانڈی پورہ کے علاقے گریز میں بھارتی فوج کا ایک اہلکار دریا میں ڈوب کرہلاک ہوگیا ۔