Live Updates

گوادر میں پانی کا بحران ٹالنے کیلئے شادی کور ڈیم سے سپلائی فعال، سوڈ اور شادی کور سے روزانہ 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے

$سوڈ ڈیم کا ذخیرہ صرف 2 سے 3 ماہ کیلئے باقی، 1.2 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ مکمل استعداد پر چلانے اور پانی کے واجبات کی وصولی کیلئے اقدامات کی ہدایت

جمعہ 28 اگست 2026 23:30

rگوادر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اگست2026ء) ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمن خان کی زیرِ صدارت واٹر سیکشن کا اجلاس ہوا، جس میں گوادر میں پانی کی فراہمی، آبی ذخائر، ڈسٹری بیوشن، بلنگ اور ریکوری کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پی ڈی واٹر میرجان، ڈائریکٹر فنانس عبدالشکو بلوچ، ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹری بیوشن محمد اکبر بلوچ سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سوڈ ڈیم میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور موجودہ ذخیرہ آئندہ تقریبا دو سے تین ماہ کے لیے کافی ہے۔ پانی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے شادی کور ڈیم سے بھی پانی کی سپلائی فعال کر دی گئی ہے، جبکہ دونوں ذرائع سے روزانہ مجموعی طور پر تقریبا 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر جنرل نے دستیاب آبی ذخائر کو مثر انداز میں مینج کرنے اور تمام متبادل ذرائع بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں چین کی جانب سے فراہم کردہ 1.2 ایم جی ڈی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کا بھی جائزہ لیا گیا اور اسے مکمل استعداد پر چلانے کے لیے گوادر پورٹ حکام سے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں گوادر شہر کو پانی کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالنے کے تقریبا ایک سالہ عرصے کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ سال کے پانی کے بحران اور بعد ازاں معمول کی صورتحال میں بھی شہر کو مثر انداز میں پانی فراہم کیا گیا اور کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔

اجلاس میں آئندہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر اور پائیدار بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں واٹر بلنگ اور ریکوری کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ نیو ٹان ہاسنگ اسکیم کے ذمے جی ڈی اے کے پانی کے تقریبا 157 ملین روپے واجب الادا ہیں۔ متعلقہ شعبہ کو بڑے صارفین اور سرکاری اداروں سے واجبات کی وصولی کے لیے مثر اقدامات کی ہدایت کی گئی۔

شادی کور ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن کو بجلی کی سہولت نہ ہونے کے باعث 24 گھنٹے ڈیزل پر چلائے جانے سے آپریشنل اخراجات میں اضافے کے پیش نظر شہریوں سے پانی کے استعمال میں کفایت شعاری اور پانی کے بلوں کی بروقت ادائیگی میں تعاون کی اپیل کی گئی۔اجلاس میں شادی کور ٹرانسمیشن لائن سے منسلک مختلف دیہات میں پانی کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ متعدد دیہات میں طویل عرصے سے جاری پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرتے ہوئے سپلائی بحال کر دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے متعلقہ ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ شہریوں اور دیہی آبادیوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات