پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اور سندھ زرعی یونیورسٹی میں زرعی تحقیق و تعاون بڑھانے پر اتفاق

ہفتہ 29 اگست 2026 13:49

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2026ء) پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اور سندھ زرعی یونیورسٹی نے زرعی تحقیق، طلبہ کی عملی تربیت، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور ملک کے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں اداروں کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت کی تجدید اور نئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

اس سلسلے میں پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے رکن، شعبہ نباتاتی علوم، اسلام آباد، ڈاکٹر سجاد علی راؤ اور ڈائریکٹر جنرل پارک سارک کراچی پرویز احمد بلوچ نے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر سجاد علی راؤ کی بطور رکن شعبہ نباتاتی علوم تقرری کے بعد یہ سندھ زرعی یونیورسٹی کا ان کا پہلا تعارفی دورہ تھا۔

(جاری ہے)

ملاقات میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹس ٹیچرز انگیجمنٹ پروگرام پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کمبھر، ڈائریکٹر دفتر تحقیق، اختراع و تجارتی روابط ڈاکٹر آسیہ اکبر پنہور اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ملاقات کے دوران سندھ زرعی یونیورسٹی اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی تجدید، زرعی روابط پروگرام کے تحت منصوبوں، مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں، طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور عملی تربیت کے مواقع، زرعی شعبے میں یونیورسٹی کے کردار اور مستقبل میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکانے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، فصلوں کی کم پیداوار، کیڑوں اور بیماریوں سمیت متعدد چیلنجز سے دوچار ہے، جن سے نمٹنے کے لیے زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط روابط، جدید تحقیق اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی ملک کے اہم زرعی تحقیقی اداروں کے ساتھ روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقی منصوبوں، طلبہ کی عملی تربیت اور تحقیقی اداروں کے ساتھ روابط سے طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا، جبکہ زرعی مسائل کے سائنسی حل تلاش کرنے اور تحقیق کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔ڈاکٹر سجاد علی راؤ نے سندھ زرعی یونیورسٹی کے زرعی تعلیم، تحقیق اور ماہر افرادی قوت کی تیاری میں کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اور سندھ زرعی یونیورسٹی کے درمیان تعاون کو مزید موثر بنا کر زرعی تحقیق اور تربیت کے فوائد براہ راست زرعی شعبے اور کاشتکاروں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔

اس موقع پر سندھ زرعی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ ڈاکٹر سلیم مسیح بھٹی نے میزبان کی حیثیت سے وائس چانسلر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کے وفد کو دونوں اداروں کے درمیان مفاہمتی معاہدے کی اہمیت، اس کے دائرۂ کار اور مستقبل میں باہمی تعاون کے ممکنہ شعبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی تجدید کے لیے مزید مشاورت، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی نشاندہی، طلبہ کے لیے انٹرن شپ اور عملی تربیت کے مواقع پیدا کرنے اور زرعی شعبے کے مختلف اہم موضوعات پر مستقبل میں مشترکہ سرگرمیاں شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔