ظ*آرگینک زراعت کے فروغ کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا خوش آئند ہے‘ نجم مزاری

اتوار 30 اگست 2026 18:35

$لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 اگست2026ء) آرگینک زراعت اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیشرفت ،نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے احکامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہی آمدن میں اضافے کے لیے آرگینک زراعت کے فروغ کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا انتہائی خوش آئند ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا اعلان قابل ستائش ہے۔

(جاری ہے)

ضرورت اس امر کی ہے کہ سرٹیفائیڈ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں ، تجویز ہے کہ ان کمپنیوں کو آرگینک بیجوں کی تیاری کی جانب بھی راغب کیا جائے۔

نجم مزاری نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک کے چاروں صوبوں کی زمین اور آب و ہوا آرگینک زراعت کے لیے انتہائی موزوں ہے، بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے کیلئے عملی پیشرفت کی جائے، اس کے ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے تحقیق، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

انہوں نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے سات اضلاع میں تقسیم کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ پانچ سینٹرز آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریز، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی مراکز، نجی شعبے کے لیے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کا مرکز، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولیات ملک میں زرعی تحقیق اور جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔