قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس، ملک کے برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے متعدد سفارشات پیش

جمعرات 3 ستمبر 2026 20:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 ستمبر2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس جمعرات کو ایم این اے محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین نے ملک کے برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد سفارشات پیش کیں اور اس بات پر زور دیا کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ متفقہ پالیسیوں کو ٹھوس کارروائی میں تبدیل کیا جانا چاہیے اور غیر ضروری تاخیر کے بغیر ان پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

کمیٹی نے تجارتی تنظیموں (تیسری ترمیم) بل کو اٹھایا جسے ایم این اے محمد فاروق ستار (پرائیویٹ ممبر بل) نے پیش کیا جبکہ کمیٹی نے موور کی مجوزہ ترامیم کے حق میں اتفاق کیا اور معاملے کو قانونی رائے کے لیے وزارت تجارت اور وزارت قانون و انصاف کو بھیج دیا اور بل پر کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے مضمرات کا جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے چاول کے شعبے کی سبسڈی سے متعلق اپنی سابقہ سفارشات پر عمل کرتے ہوئے چاول کی برآمدات میں حوصلہ افزاء اضافے کو سراہا جس میں 30 اگست 2026ء تک برآمدات 321 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 394 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ نمایاں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔

کمیٹی نے زور دیا کہ انفرادی شعبوں کی مثبت کارکردگی کو تحقیق، بہتر بیجوں کی اقسام، ویلیو ایڈیشن اور زیادہ مسابقت کے ذریعے وسیع تر اور پائیدار برآمدی حکمت عملی میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے تجارت کے فروغ اور سہولت کاری کے طریقہ کار کی تاثیر پر سوال اٹھایا اور مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ اراکین نے زور دیا کہ پاکستان کو محض تجارتی سہولتوں پر بات کرنے سے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی طرف بڑھنا چاہیے جس میں کاروبار درحقیقت بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔

کمیٹی نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اور تجارتی سہولت کاری کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔چینی کی درآمدات کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے پالیسی ، مالیاتی اثرات اور غذائی تحفظ پر اثرات کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی۔ اراکین نے زور دیا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے معیار، ایکریڈیٹیشن، قیمتوں، مقدار اور صنعتی مسابقت پر بیک وقت توجہ دینے کی ضرورت ہے اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو متاثر کرنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ساتھ لانے کی تجویز پیش کی۔

کمیٹی نے پالیسی گائیڈ لائنز کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی جو صنعتی ترقی، ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ کی تنوع میں معاونت کے قابل ہوں۔اجلاس میں ایم این اے شائستہ پرویز، گل اصغر خان، کرن حیدر، خورشید احمد جونیجو، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، اسد عالم نیازی، محمد نعمان، رمیش کمار وانکوانی ، محمد فاروق ستار اور فرحان چشتی نے شرکت کی۔ وزیر تجارت اور وزارت تجارت اور اس سے منسلک محکموں کے دیگر سینئر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔