گورنر پنجاب سے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی ملاقات

صنعتی ترقی کے لیے کاروباری برادری کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے‘سردار سلیم حیدر خان صنعتوں کی منتقلی کے فیصلے کاروباری برادری کی مشاورت اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں‘صدر لاہور چیمبر

پیر 7 ستمبر 2026 19:25

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 ستمبر2026ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے ملاقات کی اور صوبے میں صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، صنعتوں کو درپیش مشکلات اور کاروباری ماحول میں بہتری کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پائیدار صنعتی ترقی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر کیے گئے فیصلے طویل المدتی نتائج نہیں دے سکتے۔ حکومت جامع اور مشاورتی پالیسی سازی پر توجہ دے رہی ہے اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔گورنر پنجاب نے مشکل معاشی حالات کے باوجود کاروباری برادری کی جانب سے سرمایہ کاری جاری رکھنے کو سراہتے ہوئے اسے حب الوطنی کا مظہر قرار دیا اور یقین دلایا کہ صنعتکاروں کے مسائل متعلقہ اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔

(جاری ہے)

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے گورنر پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس کی جانب سے کاروباری برادری کے مسائل پر فوری ردعمل حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے مختلف صنعتی علاقوں میں 1400 سے زائد صنعتیں کام کر رہی ہیں جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں صنعتوں کو بلند کمرشلائزیشن فیس، انتظامی رکاوٹوں اور دیگر مسائل کا سامنا ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

فہیم الرحمن سہگل نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صنعتی علاقوں کو باقاعدہ صنعتی زونز کا درجہ دیا جائے اور کمرشلائزیشن فیس میں خاطر خواہ کمی کی جائے تاکہ صنعتوں کو درپیش مشکلات کم ہوں، صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے اور لاکھوں روزگار محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور کے متعدد صنعتی علاقوں میں بڑی تعداد میں صنعتیں کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہیں اور مقامی معیشت، برآمدات اور روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس لیے ان صنعتوں کے مستقبل سے متعلق فیصلے زمینی حقائق اور ان کے معاشی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔لاہور چیمبر کے صدر نے صنعتی منتقلی کے مجوزہ منصوبوں میں نجی شعبے کی مؤثر شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صنعتکاروں کے اعتماد اور مشاورت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں کئی دہائیوں کی سرمایہ کاری اور محنت سے قائم ہوتی ہیں، اس لیے صنعتی منتقلی کے فیصلے متبادل سہولیات، کاروباری لاگت، انفراسٹرکچر اور کاروباری برادری کی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔