وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیر صدارت اجلاس، 8ماہ میں موصول شکایات اور ان کے ازالے کا جائزہ

۵جنوری 2026ء سے اگست 2026ء تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے مجموعی طور پر 3 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں موصولہ شکایات میں سے 499 شکایات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موقع پر حل کی گئیں یا شکایت کنندگان کو ضروری رہنمائی فراہم کی گئی

جمعرات 10 ستمبر 2026 04:05

(پشاور(آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں جنوری سے اگست 2026ء تک موصول ہونے والی شکایات، ان کے ازالے اور عوام کو فراہم کیے جانے والے ریلیف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2026ء سے اگست 2026ء تک وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو مختلف ذرائع سے مجموعی طور پر 3 ہزار 551 شکایات موصول ہوئیں۔

بریفنگ کے مطابق موصولہ شکایات میں سے 499 شکایات وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں موقع پر حل کی گئیں یا شکایت کنندگان کو ضروری رہنمائی فراہم کی گئی، جبکہ 498 شکایات دائرہ اختیار یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث ناقابلِ عمل قرار پائیں۔ اسی طرح 2 ہزار 610 شکایات صوبائی محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کی گئیں۔

(جاری ہے)

ان شکایات میں سے 988 پر ریلیف فراہم کیا گیا، 11 پر جزوی ریلیف دیا گیا، جبکہ 781 شکایات پر کارروائی جاری ہے۔

مزید 774 شکایات میرٹ پر پورا نہ اترنے کے باعث قابلِ کارروائی نہیں تھیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زمینی تنازعات اور تعلیم شکایات کی بڑی کیٹیگریز میں شامل ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل کو 1090 شکایات دستی طور پر، 1047 واٹس ایپ، 687 ای میل، 343 فون کالز، 273 فیس بک اور 111 ایکس کے ذریعے موصول ہوئیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ اجلاسوں اور پریزنٹیشنز سے نہیں بلکہ عوام کی گواہی اور اطمینان سے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شکایات کے مؤثر ازالے اور حکمرانی میں عوامی شمولیت عمران خان کا وڑن ہے، صوبائی حکومت عمران خان کے اس وڑن کو عملی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کا مستقبل عوامی اطمینان سے وابستہ ہے۔ عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل اور شکایات کے مؤثر ازالے کو حکومتی کارکردگی کا بنیادی پیمانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کمپلینٹ سیل کے ذریعے شہریوں کو ملنے والے ریلیف سے عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ مزید لوگ اس سہولت سے مستفید ہوں۔ اجلاس میں پشاور نرسنگ کالج واقعے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو پنجاب پولیس نہیں بننے دیں گے، نرسنگ کالج واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے طلبہ ہمارے بچے ہیں، ان کے حقوق کے تحفظ اور خدمت کے لیے صوبائی حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں شکایات کے ازالے کے دستیاب نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چیف سیکرٹری اور دیگر شکایات سیلز کو وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کیا جائے گا تاکہ شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر اور مربوط بنایا جاسکے۔

چیف سیکرٹری نے مزید بتایا کہ شکایات کے رجحانات اور کیٹیگریز کا اے آئی کے ذریعے تجزیہ کیا جائے گا اور اس کی بنیاد پر حکومتی نظام میں ضروری اصلاحات لائی جائیں گی۔ اجلاس میں شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، عوامی آگاہی بڑھانے اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کیا گیا