سندھ میں انڈر میٹرک خاتون کاغذات میں ٹیچر بھرتی، فراڈیئے بینک کا لاکھوں روپے قرضہ بھی ہڑپ کرگئے

دستاویزات کے مطابق یہ عورت گریجوایٹ ہے، اسے سندھ میں ٹیچر بھرتی کرلیا گیا حقیقت میں بیچاری انڈر میٹرک ہے، اس کے نام پر ناصرف کوئی تنخواہ وصول کرتا رہا؛ حامد میر نے خاتون کی ویڈیو بھی شیئر کردی 

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 10 ستمبر 2026 14:30

سندھ میں انڈر میٹرک خاتون کاغذات میں ٹیچر بھرتی، فراڈیئے بینک کا لاکھوں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 ستمبر 2026ء) سندھ میں سرکاری ملازمتوں میں جعلی بھرتیوں اور کرپشن کے ایک انوکھے واقعے میں ایک انڈر میٹرک خاتون کے نام پر کاغذات میں جعل سازی کرکے ناصرف اسے پرائمری ٹیچر بھرتی کیا گیا بلکہ اس کے نام پر ہر ماہ تنخواہیں وصول کرکے بینک سے لاکھوں روپے قرضہ بھی ہڑپ کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس متاثرہ خاتون کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سندھ حکومت کے مختلف محکموں اور بینکوں کی ملی بھگت کا پردہ فاش کیا، اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق متاثرہ خاتون کو بی اے یعنی گریجوایٹ ظاہر کرکے سندھ کے محکمہ تعلیم میں بطور ٹیچر بھرتی کرلیا گیا جبکہ حقیقت میں وہ بی بی انڈر میٹرک ہے اور اسے اس بھرتی کا علم تک نہیں تھا۔

(جاری ہے)

حامد میر نے بتایا کہ ملزمان اور محکمہ کے کرپٹ عناصر ناصرف اس کے نام پر جاری ہونے والی سرکاری تنخواہ وصول کرکے کھاتے رہے بلکہ اس کے نام کا جعلی استعمال کرتے ہوئے بینک سے لاکھوں روپے کا قرضہ حاصل کرکے غائب ہو گئے، بینک سے قرضہ نہ لوٹائے جانے اور محکمے کی تحقیقات پر نامزدگی کے باعث اب پولیس اس خاتون کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے پولیس سے چھپتی اور بھاگتی پھر رہی ہے، یہ صرف ایک شخص کا کام نہیں ہے بلکہ اس میں سندھ کے کئی محکموں اور بینکنگ عملے کا ایک بڑا نیٹ ورک اور فراڈ شامل ہے۔