اسلام آباد کی درودیوار بول رہے ہے کہ انتظامی یونٹس بنا کے دکھانے ہیں، منیب فاروق

ریفرنڈم کی تیاریاں ہو رہی ہیں، الیکشن کمیشن سے ڈیٹا اکٹھا کیا جائےگا، ریفرنڈم کے بعد آئے گا شاہکار یعنی آئین کے شقوں کا تصادم آئینی عدالت سے دورکیا جائے گا۔ صحافی کا وی لاگ

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 11 ستمبر 2026 18:49

اسلام آباد کی درودیوار بول رہے ہے کہ انتظامی یونٹس بنا کے دکھانے ہیں، ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 ستمبر 2026ء ) صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی درودیوار بول رہے ہے کہ انتظامی یونٹس بنا کے دکھانے ہیں، ریفرنڈم کی تیاریاں ہو رہی ہیں، الیکشن کمیشن سے ڈیٹا اکٹھا کیا جائےگا۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی درودیوار بول رہے ہے کہ جو لوگ کہہ رہے ہے کہ انتظامی یونٹس نہیں بن سکتے تو یہ ہم نے بنا کے دکھانے ہے، ریفرنڈم کی تیاریاں ہو رہی ہے الیکشن کمیشن سے ڈیٹا اکھٹا کر کے وزیراعظم کو جوائنٹ سیشن کے سامنے پیش کرنے کا کہا جائے گا اور ریفرنڈم کے بعد آئے گا شاہکار یعنی آئین کے شقوں کا تصادم آئینی عدالت سے دور کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایک انٹرویو میں سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان کے لیے اسٹیٹس کو کوئی آپشن نہیں ہے اور عوام کو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اب ناگزیر ہوچکی ہے،اصل مسئلہ صرف نئے یا چھوٹے صوبوں کا قیام نہیں بلکہ عوام کو اقتدار، وسائل اور فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت دینا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام ایک ایسے قبضے کا شکار ہے جس میں حکمران طبقہ خود کو مکمل بااختیار سمجھتا ہے جبکہ عوام کا اقتدار میں عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

عوام موجودہ صورت حال میں اپنا وجود محفوظ نہیں سمجھتے اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ حکمران طبقہ موجودہ نظام برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کا پورا نظام ایک پہیے کی گاڑی بن چکا ہے جس میں حکمران تو شامل ہیں لیکن عوام اس کا موثرحصہ نہیں۔ محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے تقریباً 78 برس گزرنے کے باوجود ملک میں بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔

سڑکیں، ہسپتال اور معیاری تعلیمی نظام مطلوبہ سطح پر موجود نہیں، تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اشرافیہ کا ایک ایسا قبضہ قائم ہوچکا ہے جس میں وہ طبقہ شامل ہے جسے برطانوی دور سے وراثت میں اختیارات ملے، بیوروکریسی بھی اس کا حصہ ہے، طاقتور ادارے بھی اس نظام کا جزو ہیں اور عدلیہ کو بھی ضرورت کے مطابق اس میں شامل کرلیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام ایک ایسے قبضے کا شکار ہے جس میں حکمران طبقہ خود کو مکمل بااختیار سمجھتا ہے جبکہ عوام کا اقتدار میں عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔عوام موجودہ صورت حال میں اپنا وجود محفوظ نہیں سمجھتے اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ حکمران طبقہ موجودہ نظام برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کا پورا نظام ایک پہیے کی گاڑی بن چکا ہے جس میں حکمران تو شامل ہیں لیکن عوام اس کا موثرحصہ نہیں۔ محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے تقریباً 78 برس گزرنے کے باوجود ملک میں بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ سڑکیں، ہسپتال اور معیاری تعلیمی نظام مطلوبہ سطح پر موجود نہیں، تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔