کراچی، سی ٹی ڈی، رینجرز اور حساس ادارے کی کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک،7مشتبہ افراد گرفتار

قاری ضیاء الرحمن سے اسلحہ و بارود برآمد، آرمی و ایف سی کیمپوں پر حملوں سمیت دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں مطلوب تھا، ترجمان رینجرز

اتوار 13 ستمبر 2026 11:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 ستمبر2026ء) پاکستان رینجرز سندھ اور محکمہ انسداد دہشت گردی سندھ نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کراچی کے علاقے گلبائی، شیر شاہ میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب دہشت گرد قاری ضیاء الرحمن عرف قاری سیف اللہ کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کردیا، دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔

ترجمان رینجرز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا انتہائی مطلوب دہشت گرد گلبائی شیر شاہ کے علاقے میں موجود ہے اور شہر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اپنا نیٹ ورک منظم کررہا ہے، جس پر رینجرز اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کی۔

(جاری ہے)

کارروائی کے دوران مشتبہ دہشت گرد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔

فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔ بعد ازاں ہلاک دہشت گرد کی شناخت قاری ضیاء الرحمن عرف قاری سیف اللہ کے نام سے ہوئی، جس کا تعلق باجوڑ، خیبر پختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گرد پاکستان آرمی اور ایف سی کے کیمپوں پر متعدد حملوں اور دہشت گردی کی کئی دیگر کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا۔

کارروائی کے بعد اس کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق قاری ضیاء الرحمن نے 2006ء میں فتنہ الخوارج کے قاری درویش عرف باندی وان گروہ میں شمولیت اختیار کی، جس کے بعد باجوڑ میں قائم تربیتی کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ وہ 2006ء سے 2008ء تک فتنہ الخوارج کے کمانڈر مولوی فقیر محمد کے خفیہ ٹھکانوں پر پہرہ دینے کی ذمہ داری بھی انجام دیتا رہا۔

ذرائع کے مطابق 2007ء میں قاری ضیاء الرحمن اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ باجوڑ میں پاکستان آرمی کے کیمپ پر حملے سمیت دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ 2012ء میں فوجی آپریشن کے دوران وہ افغانستان فرار ہوگیا تھا۔افغانستان پہنچنے کے بعد قاری ضیاء الرحمن نے ننگرہار کے بندھار درا میں قائم ایک تربیتی کیمپ میں دہشت گردی کی مزید تربیت حاصل کی۔

بعد ازاں وہ افغان سرحد سے ملحق پاکستانی چوکیوں پر ہونے والے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا۔ترجمان کے مطابق ہلاک دہشت گرد حال ہی میں افغانستان سے کراچی منتقل ہوا تھا اور شہر کے حساس مقامات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے لیے اپنا نیٹ ورک منظم کررہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرکے اس کی سرگرمیوں کا خاتمہ کردیا۔

دریں اثنا کراچی کے علاقے جمالی پل، سپر ہائی وے کے قریب بھی محکمہ انسداد دہشت گردی اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کی، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والا ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کی شناخت ساجد علی کے نام سے ہوئی، جو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سمیت دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھا۔

ذرائع کے مطابق شہر کے دیگر علاقوں میں بھی محکمہ انسداد دہشت گردی نے کارروائیاں کرتے ہوئے 7 افراد کو حراست میں لیا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔ترجمان رینجرز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے مشتبہ عناصر اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101، محکمہ انسداد دہشت گردی کی ہیلپ لائن 1022 (ایکسٹنشن 4) یا رینجرز مددگار کے واٹس ایپ نمبر 0347-9001111 پر کال یا پیغام کے ذریعے دیں، اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔