احتجاج کا آئینی حق کسی کو عوامی شاہراہیں بند کرنے اور حملوں کا اختیارنہیںدیتا،وین آئیوی

/ اپنے مؤقف کا اظہار کریں مگر قانون نہ توڑیں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تصادم سے گریز کریں،فلوریڈا کے شیرف کا بیان وائرل

اتوار 20 ستمبر 2026 18:05

ق*فلوریڈا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 ستمبر2026ء) فلوریڈا کے شیرف وین آئیوی کا احتجاج سے متعلق مؤقف آیا ہے جسے پاکستان میں 27 ستمبر کے اعلان کردہ احتجاج کے تناظر میں اہم مثال قراردیا جا رہا ہے۔ فلوریڈا کے شیرف وین آئیوی نے واضح پیغام دیا ہے کہ پرامن احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے، مگر تشدد، راستے بند کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ قابل قبول نہیں احتجاج ضرور کریں، اپنے مؤقف کا اظہار کریں مگر قانون نہ توڑیں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تصادم سے گریز کریں، شیرف وین آئیوی کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میںانہوں نے کہا ہے کہ احتجاج کا آئینی حق کسی کو عوامی شاہراہیں بند کرنے، شہریوں کی آمدورفت روکنے یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کا اختیار نہیں دیتا۔

(جاری ہے)

ادھرپاکستان میں 27 ستمبر کے احتجاج کے اعلان کے بعد حکومت کا موقف بھی فلوریڈا کے شیرف کی طرح غیر مبہم ہے اوروزیر داخلہ محسن نقوی دوٹوک اعلان کر چکے ہیںکہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔وزیر داخلہ نے کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن دارالحکومت کا گھیرا کرکے نظام زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، وزیر داخلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح رولز آف انگیجمنٹ دیے جائیں گے، وزیر داخلہ قانون ہاتھ میں لینے یا تشدد کی صورت میں فورسز خاموش تماشائی نہیں بنیں گی، پالیسی واضح ہے۔

محسن نقوی کے مطابق اسلام آباد پر دھاوا یا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی توہین عدالت کے زمرے میں آئے گی، قانون کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگیاسلام آباد ہائی کورٹ بھی واضح کر چکی، پرامن احتجاج کا حق اپنی جگہ لیکن شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق سیاسی جلسے اور جتھے میں فرق ہے، عوامی راستے روکنا، شہریوں کی آمدورفت متاثر کرنا اور معمولات زندگی مفلوج کرنا قانونی تحفظ حاصل نہیں کرتا پاکستان اور امریکہ کی مثالیں ایک ہی بنیادی اصول کی نشاندہی کرتی ہیں، احتجاج کا حق دوسروں کے حقوق سلب کرنے یا قانون کو ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ،نہ فلوریڈا میں نہ پاکستان میں احتجاج کے نام پر شاہراہیں بند کرنے، شہریوں کا راستہ روکنے، کاروبار، ہسپتال یا سکولوں کا نظام متاثر کرنے کی اجازت ہے۔

7 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں واضح پیغام، پرامن سیاسی جلسہ اور آئینی احتجاج ایک معاملہ، تشدد، شاہراہوں کی بندش اور دارالحکومت کا محاصرہ الگ قانونی معاملہ ہے شہریوں کے آئینی حقوق احتجاج کے نام پر معطل نہیں کیے جا سکتے، ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری عام شہریوں کے حقوق اور امن و امان کا تحفظ بھی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ، تشدد یا ریاستی عملداری کو طاقت کے ذریعے چیلنج کرنا پرامن احتجاج کے دائرے میں نہیں آتا اصول واضح ہے، احتجاج کریں، اختلاف کریں، آواز بلند کریں، مگر شہریوں کا راستہ، شہر کا نظام اور قانون کی عملداری بند کرنے کی کوشش پر قانون کے آہنی ہاتھ کا سامنا کریں۔