اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رُکتا تو خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی نفاذ کے 70 فیصد امکانات موجود ہیں، عاصمہ شیرازی

آرٹیکل232 کے تحت ایمرجنسی لگانے کیلئے دو شرائط ہیں ’بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار، بیرونی جارحیت والی شرط پوری ہوچکی ہے، لانگ مارچ کی صورت میں دوسری شرط بھی پوری ہوجائے گی، صحافی عاصمہ شیرازی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 24 ستمبر 2026 19:21

اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رُکتا تو خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 24 ستمبر 2026ء ) سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اس بار ڈرایا ، دھمکایا نہیں جائے گا، اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رکتا تو حکومت پاکستان فوری ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتی ہے۔ اپنے وی لاگ میں انہوں نے بتایا کہ شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے آرٹیکل232 کی تیاری کی گئی ہے، آرٹیکل 232 ایمرجنسی سے متعلق ہے، ایمرجنسی کے دو پہلو ہیں، اگر کوئی بیرونی جارحیت ہوتی ہے یا اندرونی خلفشار ہوتا ہے، تو صوبے کے اندر ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، جس کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو صدر مملکت کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرسکتے ہیں،18ویں ترمیم کے بعد یہ آرٹیکل 232 کہتا ہے ۔

(جاری ہے)

ایمرجنسی لگانے کیلئے دو شرائط ہیں، ایک بیرونی جارحیت اور دوسری اندرونی خلفشار، بیرونی جارحیت والی شرط خیبرپختونخواہ میں پوری ہوچکی ہے۔ دوسری شرط اندرونی خلفشار کی ہے وہ ابھی لانگ مارچ، دہشتگرد تنظیموں اور امن وامان کی صورت میں موجود ہے۔

یہ میں آپ کو خبر بتا رہی ہوں، یہ میری کوئی خواہش نہیں ہے، آئین کے اندر یہ ایک سب سے ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔ کہ کن کن صورتوں میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگ سکتا ہے۔ اگر صوبائی اسمبلی ایمرجنسی کی قرارداد منظور نہیں کرتی تو صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی نفاذ کے بعد دس دن کے اندر مجلس شوریٰ الگ الگ ایوانوں سے قرارداد منظور کرسکتی ہے۔ اس بار ڈرایا ، دھمکایا نہیں جائے گا، اگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں رکتا تو حکومت پاکستان فوری ایمرجنسی کا نفاذ کرسکتی ہے۔