مقبوضہ کشمیر، کشمیری نوجوانوں کا جعلی مقابلوں میں قتل بھارتی فورسز کا روز کا معمول

بھارتی فوج کی ڈرامہ بازی ،جعلی مقابلے میں’’موسی‘‘ نام کے جوان کا بار بار قتل

بدھ 30 ستمبر 2026 13:31

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے عام شہریوں کو عسکریت پسند قرار دی دیکر جعلی مقابلوںمیں ماورائے عدالت انکا قتل روز کا معمول ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آج یوسمرگ کوراگ میں بھارتی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کیا جبکہ اسی علاقے میں 5ستمبر کو یاسر نامی نوجوان کو جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا تھا۔

بھارتی حکام نے آج شہید ہونے والے نوجوان کی شناخت سلیمان شاہ کے نام سے کی ہے جب کہ بعض حکام نے شہید ہونیو الے کا نام ہاشم موسی عرف آصف موسی بتایا ہے۔ یہاں یہ با ت انتہائی دلچسپ اور قابل غور ہے کہ 24-25 اپریل کو،جموں و کشمیر پولیس نے پہلگام حملے میں ملوث افراد کے خاکے جاری کیے، جن میں سے بھی ایک کا نام ہاشم موسی بتایا گیا تھا۔

(جاری ہے)

23 جون 2025 کو بھارتی تحقیقاتی ادارے’’، این آئی اے ‘‘نے تصدیق کی کہ جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے جاری کردہ خاکے پہلگام حملے کے اصل حملہ آوروں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

28 جولائی کو بھارتی فورسز نے دوبارہ دعوی کیا کہ انہوں نے 'آپریشن مہادیو' کے دوران موسی کو مارد دیا ہے۔ اور اب، 30ستمبر کویوسمرگ میں جس نوجوان کو جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا ، بعض بھارتی حکام نے اسکا نام بھی موسی بتایا ہے ۔ بھارتی فوج کا یہ بھی ایک پرانا وطیرہ ہے کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے اس طرح کے آپریشنوںمیںمارے جانے والوںکو پاکستانی دراندز قرار دیتی ہے ۔

تاہم دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیر پرفوجی طاقت کے بل پر قبضہ جمار رکھا ہے اور کشمیری گزشتہ آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے اسکے جابرانہ تسلط کے خلاف ایک تاریخ ساز جدوجہد کر رہے ہیں اور عظیم قربانیاں دے رہیں ، کشمیریوں کی بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد مکمل طور پر انکی اپنی ہے اور اقوام متحدہ کا چارٹر انہیں اس جدوجہد کا حق دیتا ہے ۔

عالمی برادری نے جموں وکشمیر کے حوالے سے بھارتی بیانیے کو مکمل طورپر مسترد کر دیا ہے اور وہ جموںوکشمیر کو مسلسل ایک متنازعہ خطے کے طور پر مانتی ہے ۔ جعلی مقابلوںمیں بیگناہ عام شہریوں کے قتل کے پیچھے بھارتی فورسز کے کئی مذموم مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ بھارتی فوج کے افسر و اہلکار انعامات، ترقی اور تمغوں کے لالچ میں جعلی مقابلوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کے قتل کا مقصد کشمیریوں کی نفسیات پر اثر انداز ہونا اور ان کے اندر خوف ودہشت پیدا کر کے جذبہ آزادی کو دبانا ہے ۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بارہا بھارت کے ان مذموم ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہے۔