پاکستان سرمایہ کاری، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے، سردار مسعود خان

بدھ 30 ستمبر 2026 16:57

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی استعداد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری، برآمدات، کاروبار کرنے میں آسانی اور تکنیکی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔

سینٹر فار لا اینڈ سکیورٹی (CLAS) میں پاکستان کے معاشی اور سرمایہ کاری کے منظرنامے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں کمی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، خصوصاً بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا جیسی علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں جہاں سرمایہ کاری کے رجحانات نسبتاً بہتر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو متعدد ساختی مسائل کا سامنا ہے جن پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

سردار مسعود خان نے صنعتی پیداوار اور ویلیو چینز میں موجود کمزوریوں کو برآمدات میں اضافے کی راہ میں اہم رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملکی پیداوار اور برآمدی سرپلس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا، پاکستان اپنی برآمدات کو نمایاں طور پر وسعت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے دانشورانہ املاک کے تحفظ اور کاروبار کرنے میں آسانی کے نظام میں بھی سنجیدہ بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی اعلیٰ سطح پر بار بار تبدیلیاں بھی مسائل پیدا کر سکتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب پالیسی سازوں اور منتظمین کو متعلقہ شعبوں کے بارے میں مطلوبہ تجربہ اور فہم حاصل نہ ہو۔ ان کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری، کامرس اور معاشی پالیسی کے شعبوں میں ادارہ جاتی مہارت اور ان شعبوں سے مکمل آگاہ قیادت ناگزیر ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے عالمی تشخص پر بھی اثر پڑا، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے تنازع کے اثرات کے باعث۔

اسی عرصے میں بھارت، چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت خطے کے متعدد ممالک نے نمایاں معاشی ترقی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنا معاشی تشخص مزید مستحکم کرنے کے ساتھ عالمی کاروباری برادری کے سامنے اپنی سرمایہ کاری کی استعداد کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہوگا۔انہوں نے پاکستان میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں اور کثیرالقومی کمپنیوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملک میں موجودہ چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع موجود ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو پاکستان کے مجموعی سرمایہ کاری کے منظرنامے میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل اور اجاگر کیا جائے۔ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس کے حوالے سے سردار مسعود خان نے کہا کہ 2018 کے بعد پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں نمایاں پیش رفت ہوئی، جبکہ 2020 کے لگ بھگ اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، تاہم بعد ازاں اس میں کمی دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ضروری انفراسٹرکچر اور موزوں پالیسی ماحول فراہم کیا جائے تو فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں بھی پاکستان کے پاس نمایاں استعداد موجود ہے۔انہوں نے بدعنوانی، پیچیدہ ٹیکس نظام، پالیسی اور سیاسی عدم استحکام، مالی وسائل تک محدود رسائی، تعلیم کی ناکافی سہولیات، بیوروکریٹک رکاوٹوں اور طرزِ حکمرانی کی کمزوریوں کو ملک کی مسابقتی صلاحیت اور سرمایہ کاری کو متاثر کرنے والے اہم عوامل قرار دیا۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کے پیچیدہ معاشی ماحول میں نمایاں مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق عوامی و کاروباری سطح پر آگاہی بڑھانے، اداروں کو مضبوط بنانے، متعلقہ شعبوں میں مطلوبہ صلاحیتیں پیدا کرنے اور باخبر پالیسی مباحثوں کو فروغ دینے سے معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔