اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 اکتوبر 2026ء) برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے بدھ کو اپنے ایک غیر معمولی ''جاسوسی انتباہ‘‘ میں کہا کہ برطانیہ میں مقیم 100 سے زائد ماہرینِ تعلیم نے چائنا جنرل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی جی ٹی آر آئی) کی مالی معاونت سے چلنے والے تحقیقی منصوبوں میں حصہ لیا۔
ایجنسی کے مطابق اس ادارے کے چین کی وزارت ریاستی سلامتی (ایم ایس ایس) کے ساتھ ''بہت مضبوط روابط‘‘ ہیں۔
ایم ایس ایس چین کی شہری انٹیلیجنس ایجنسی ہے۔ایم آئی فائیو نے کہا کہ اس نے شناخت کیا ہے کہ سی جی ٹی آر آئی کا بنیادی مقصد ایسی علمی تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنا ہے جو جاسوسی کے لیے ایم ایس ایس کی تکنیکی صلاحیت میں براہِ راست اضافہ کرتی ہے۔
(جاری ہے)
انتباہ کے مطابق برطانوی ماہرینِ تعلیم نے سی جی ٹی آر آئی سے مالی معاونت حاصل کرنے والے ایسے منصوبوں میں حصہ لیا جن کے موضوعات میں مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، خفیہ مواصلاتی نظام اور اسٹیگانوگرافی شامل ہیں۔
اسٹیگانوگرافی سے مراد پیغامات یا اشیا کے اندر معلومات کو اس طرح چھپانا ہے کہ اس کا بظاہر پتا نہ چل سکے۔برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ
ایم آئی فائیو نے کہا کہ یہ سرگرمیاں ایم ایس ایس کی جاسوسی میں معاونت کرتی ہیں، جو برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
ایجنسی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے کسی انتباہ کو آزادانہ طور پر عوام کے لیے جاری کیا ہے۔
یہ انتباہ چینی جاسوسی کی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے اور ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے باوجود سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔برطانیہ
میں چینی سفارتخانے نے ان الزامات کو ''خیالی اور مکمل طور پر من گھڑت‘‘ قرار دیا ہے۔سفارتخانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، ''ہم ایسے بے بنیاد الزامات کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور برطانوی حکومت کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرا چکے ہیں۔
‘‘ترجمان نے برطانوی انٹیلی جنس حکام پر زور دیا کہ وہ ''جھوٹ پھیلانا اور چین و برطانیہ کے درمیان تعلیمی تبادلوں اور تحقیقی تعاون کو نقصان پہنچانا بند کریں۔‘‘
برطانوی وزیر کا ’مضبوط کارروائی‘ کا عزم
ایم آئی فائیو نے کہا کہ بہت سے ماہرینِ تعلیم اور اداروں نے نیک نیتی سے سی جی ٹی آر آئی کے ساتھ تعاون کیا ہو گا اور انہیں اس ادارے کے ایم ایس ایس سے قریبی روابط کا علم نہیں تھا۔
تاہم ایجنسی نے خبردار کیا کہ جو افراد اب بھی اس چینی ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے، انہیں برطانیہ کے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ قانون 2023 میں غیر ملکی جاسوسی اور ریاستی سطح کی مخالفانہ سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ اختیارات دینے کی غرض سے منظور کیا گیا تھا۔
برطانیہ
کے سکیورٹی امور کے وزیر ڈین جارویس نے کہا کہ انہوں نے ملک کی تمام جامعات کے سربراہان کو خط لکھ کر عملے کو چینی ادارے کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق ختم کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا، ''یہ انتباہ چینی انٹیلیجنس کی جانب سے ہمارے ماہرینِ تعلیم کی مہارت اور تحقیق سے خفیہ طور پر فائدہ اٹھانے کی کوششوں کو بے نقاب کرتا ہے، جو ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی شراکت داریاں اہم ہیں تاکہ جامعات اور تحقیقی ادارے ترقی کرتے رہیں، تاہم حکومت ''درپیش خطرات کے دفاع کے لیے مضبوط کارروائی کرے گی۔
‘‘چین کے ساتھ برطانیہ کے پیچیدہ تعلقات
حالیہ برسوں میں برطانیہ اور چین کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ ایک جانب برطانوی حکومت تجارت بہتر بنانے کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کر رہی ہے اور لندن میں یورپ کا سب سے بڑا چینی سفارتخانہ تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری بھی دے چکی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ چینی جاسوسی اور برطانوی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں سے متعلق بارہا خبردار کر چکی ہے۔
گزشتہ سال ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر جنرل کین مک کیلم نے کہا تھا کہ چینی جاسوس روزانہ کی بنیاد پر برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور حساس معلومات رکھنے والے برطانوی ماہرین کو راغب کرنے کے لیے جعلی ملازمتوں کے اشتہارات تیار کر رہے ہیں۔
ایجنسی نے گزشتہ نومبر میں برطانوی قانون سازوں کو بھی ایک انتباہ جاری کیا تھا کہ چینی ایجنٹ ہیڈ ہنٹرز یا کمپنیوں کا روپ دھار کر ان سے معلومات حاصل کرنے اور ان کی سرگرمیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جون میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل 'فائیو آئیز‘ اتحاد کی سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی خبردار کیا تھا کہ چینی جاسوس حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کو بھرتی کرنے کے لیے آن لائن ملازمتوں کے پلیٹ فارمز کا جارحانہ انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔
لندن میں چینی سفارت خانے نے اس انتباہ کو بھی ''مکمل طور پر من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی بہتان‘‘ قرار دیا تھا۔
ادارت: امتیاز احمد