آئی ایم ایف کی نئی شرائط، حکومت 174 ترامیم جلد پاس کرنے کےلئے متحرک

مذاکرات کے دوران ہی ترامیم پارلیمنٹ سے پاس کرائی جائیں گی، اسپیکر اسمبلی ایازصادق اپوزیشن اوراتحادیوں کو راضی کریں گے. رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 1 اکتوبر 2026 15:37

آئی ایم ایف کی نئی شرائط، حکومت 174 ترامیم جلد پاس کرنے کےلئے متحرک
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم اکتوبر ۔2026 ) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی شرط پر سرکاری اداروں کے قوانین میں 174 ترمیم کی ڈیڈ لائن کے تناظر میں حکومت متحرک ہوگئی ہے آئی ایم ایف کے مذاکرات کے دوران ہی ترامیم پارلیمنٹ سے پاس کرائی جائیں گی، اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق متحرک، اپوزیشن اوراتحادیوں کو راضی کریں گے.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روزاس معاملے پر پیپلز پارٹی وفد سے اسپیکر چیمبر طویل مشاورت ہوئی، پیپلز پارٹی نے حکومت سے قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ایاز صادق نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے قانون سازی میں تعاون مانگا، پیپلز پارٹی راضی ہوئی تو آئندہ قومی اسمبلی اجلاس میں ترامیم پیش کی جائیں گی. ذرائع کے مطابق پاکستان نے سرکاری اداروں کے9 سے10 قوانین میں ترامیم کی چوتھی ڈیڈ لائن بھی پوری نہیں کی، آئی ایم ایف نے ایس اوایزقوانین کومرکزی ایس اوای ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے کا مطالبہ کررکھاہے، آئی ایم ایف کی شرط پر میری ٹائم ایکٹ میں بھی ترمیم کی جائے گی آئی ایم ایف نے واپڈا کے گورننس ڈھانچے میں موثر اصلاحات کا مطالبہ کر رکھا ہے، حکومت نے ایس او ای قوانین میں ترامیم کے لیے متعدد مرتبہ نئی ڈیڈ لائن لی.

آئی ایم ایفنے ایس اوای قوانین میں ترامیم نومبرکے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کررکھی ہے. آئی ایم ایف نے نیب چیئرمین تقرری کا عمل شفاف اور قواعد پر مبنی بنانے پرپیشرفت کا جائزہ لیا، نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے نیب آرڈیننس میں ترمیم زیر غور ہے ایس او ای قوانین میں ترامیم کیلئے حکومت نے جنوری 2026 میں 6 قوانین پارلیمنٹ کوبھجوائے تھے.

وزارت خزانہ کے مطابق مجموعی طور پر مختلف قوانین میں 174 ترامیم کرنی ہیں، تین سرکاری اداروں سے متعلق مخصوص قوانین میں ترامیم پر مزید پیش رفت درکار ہے چوتھے جائزہ کی منظوری کیلئے آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس نومبر میں ہونے کا امکان ہے، چوتھے جائزہ اور اگلی قسط کی منظوری کامیاب مذاکرات سے مشروط ہے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو مزید ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے.