نئی دہلی، پولیس کا جنسی ہراسانی کے خلاف ایف آئی آر کے مطالبے پر خواتین صحافیوں پرتشدد

منگل 6 اکتوبر 2026 11:58

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 اکتوبر2026ء) نئی دہلی پولیس نے خواتین صحافیوں سے جنسی زیادتی کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کرنے والے 18 آزاد صحافیوں اور مظاہرین کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ 3اکتوبر کو جنتر منتر کے قریب پیش آیاتھا، جہاں صحافی روزی نے الزام عائد کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وویک بھگت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاج کی کوریج کے دوران انہیں نامناسب سلوک کا نشانہ بنایا تھا۔

دو دیگر خواتین صحافیوں نے بھی پولیس افسر کے خلاف بدسلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں۔واقعے کے بعد صحافیوں اور کارکنوں نے پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن کے باہر رات بھر دھرنا دیا اور بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 173(1) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

(جاری ہے)

4 اکتوبر کی صبح پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور انہیں پارلیمنٹ سٹریٹ سے تقریبا 12 کلومیٹر دور دہلی کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کر دیاگیا۔

حراست میں لیے گئے افراد نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں گاڑیوں کے اندر شدید تشددکا نشانہ بنایا ، انہیں ٹھوکریں ماریں اور گالم گلوچ کیا۔ ایک خاتون صحافی نے کہا کہ پونم نامی خاتون پولیس اہلکار نے انہیں بالوں سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔صحافیوں انوج بھگت، گجیندر سنگھ اور دیگر نے اپنے ہاتھوں اور کمر پر مبینہ تشدد کے نشانات بھی دکھائے۔

ایک صحافی نے الزام لگایا کہ اسے فرقہ وارانہ نوعیت کے توہین آمیز الفاظ کانشانہ بنایاگیا اور گھر جلانے کی دھمکی بھی دی گئی۔ نئی دہلی پولیس نے صحافیوں اور مظاہرین پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی شکایات کو تحقیقات کے لیے کرائم برانچ منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وویک بھگت کے خلاف تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس پر آزاد میڈیا تنظیموں اور صحافتی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔