لاؤڈ اسپیکر پرنماز کی ممانعت ، آوازاہل محلہ کے لیے باعث اذیت ہے،سعودی عالم

لاؤڈ اسپیکر پرنماز کی ادائیگی دوسروں کو اذیت پہنچانے کا موجب،بند ہونے چاہئیں، علامہ ابن عثیمین

اتوار 18 فروری 2018 12:10

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار 18 فروری 2018ء)سعودی عرب میں ایک عالم دین علامہ ابن عثیمین کا ایکفتویٰ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے لاؤڈ اسپیکر پرنماز کی ادائیگی کو مساجد اور اہل محلہ کیلیے باعث اذیت قرار دیتے ہوئے ممنوع قرار دیا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ویڈیو فوٹیج میں کسی سائل کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں علامہ ابن عثیمین مرحوم کا کہناتھا کہ نمازکے دوران لاؤڈ اسپیکر بند کر دینے چاہئیں اور ان میں نماز ادا نہیں کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز کی ادائی دوسری مساجد کے نمازیوں اور اہل محلہ کے لیے اذیت کا موجب ہے۔ محلے میں کوئی مریض بھی ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ بچے اور گھروں میں سوئے افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اذان کے سوا نماز کے دیگر تمام امور لاؤڈ اسپیکر کے بغیر انجام دیے جانے چاہئیں۔علامہ العثیمین کا مزید کہناتھا کہ امام اپنے مقتدیوں کی طرف سے نماز ادا کر رہا ہوتا ہے۔

اس لیے نماز کو بلند آواز میں دوسروں تک پہنچانے کے لیے لاؤڈ اسپیکر اور مائیکرو فون استعمال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ اٴْنہوں نے اپنے اس موقف کے لیے ایک حدیث نبوی کا حوالہ دیا ہے کہ ایک دفعہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان آئے تو صحابہ اونچی آوازوں میں نمازیں ادا کر رہے تھے آپ علیہ السلام نے اٴْنہیں فرمایا کہ بلند قرات کے ساتھ ایک کو اذیت نہ پہنچاؤ۔

تاہم علامہ العثیمین رحمہ اللہ کا کہنا تھا نماز سے قبل اقامت لاؤڈ اسپیکر پر کہنے میں کوئی ممانعت نہیں۔ بعض لوگ لاؤڈ اسپیکر پر اقامت کو بدعت قرار دیتے ہیں مگر یہ خیال غلط ہے کیونکہ ایک بار نبی اکرم علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم اقامت سنو تو نماز کی طرف چل پڑو۔ جہاں تک پوری نماز مائئکرو فون پر ادا کرنے کا معاملہ ہے تو یہ دوسروں کو اذیت پہنچانے کی کوشش ہے۔

متعلقہ عنوان :