سعودی عرب کے مشہور اسپتال میں لڑکے اور لڑکیوں کے رقص کی ویڈیو وائرل

سعودی عرب کے مشہور اسپتال میں لڑکے اور لڑکیوں کے رقص کی ویڈیو وائرل ، ویڈیو نے ریاست میں کئی نئے تنازعات کو جنم دے دیا

بدھ مئی 14:29

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ مئی ء) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک مشہور اسپتال میں لڑکے اور لڑکیوں کے مخلوط رقص کی ویڈیو نے ریاست میں ہونے والی نئی تبدیلیوں سے متعلق کئی نئے تنازعات کو جنم دے دیا ہے ۔ مزید تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ریاض کے امیر محمد بن عبدالعزیز اسپتال میں لڑکوں اور لڑکیوں کے رقص پر مشتمل ویڈیو کلپ نے ہنگامہ برپا کردیا۔

کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ اسپتال کا لباس پہنے ہوئے خواتین اور مرد اسٹیج پر رقص کررہے ہیں۔ انکے عقب میں اسپتال کانام اور لوگو بھی نظرآرہاہے ۔ مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کےمطابق یہ سارا واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا ہے ۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد ریاست میں ہونے والی تبدیلیوں پر سوال اٹھائے ہیں ۔

(جاری ہے)

کئی سوشل میڈیا صارفین نے ریاست میں ہونے والی تبدیلیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ایک مسلم ریاست ہے جس میں اس طرح کی حرکات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں ۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سینماء گھروں اور خواتین پر سے دیگر پابندیوں کا ہٹائے جانے کا مقصد قطعاً یہ نہیں ہے کہ خواتین مردوں کے ساتھ مل کر اس طرح کام کرنے کی جگہ پر بے حیائی پر اتر آئیں ۔ مقامی ذرائع کے مطابق بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے ان نرسوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال میں نرسوں کا اس طرح کا رویہ نہایت ہی غیر پیشہ وارانہ حرکت ہے ۔ اس ویڈیو کے جاری ہوتے ہی اسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا گیا ہے تاہم اسپتال میں میڈیا کے انچارج نے مقامی میڈیا کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ویڈیو سے اسپتال کا کوئی تعلق نہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ واقعہ اسپتال یا اس کے ماتحت کسی عمارت میں ہوا ہوگا۔

Your Thoughts and Comments