لاہور،چیف جسٹس نے پرویز مشرف کو کل دوپہر 2بجے تک آنے کی مہلت دیدی

کل دو بجے تک نہ آنے کی صورت میں قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا، پرویز مشرف ائیر ایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

بدھ جون 20:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ جون ء) چیف جسٹس پاکستان نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو وطن واپس آنے کے لییآج دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دے دی اور واضح کیا کہ کل دو بجے تک نہ آنے کی صورت میں قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے باور کرایا کہ کسی کو لکھ کر گارنٹی دینے کے پابند نہیں ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے پرویز مشرف کی واپسی کے معاملے پر سماعت کی۔ پرویز مشرف کے نے بتایا کہ ان کے موکل بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ انہیں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ وکیل کے مطابق پرویز مشرف کو رعشہ کی بیماری ہے میڈیکل بورڈ ہونا ہے۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف ائیر ایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس پاکستان نے واضح کیا سپریم کورٹ واپسی کے لیے مشرف کی شرائط کی پابند نہیں پہلے کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف وطن واپس آئیں انہیں تحفظ دیں گے لکھ کر گارنٹی دینے کے پابند نہیں ۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں تو آ کر دکھائیں سیاستدانوں کی طرح آ رہا ہوں کی گردان مت کریں چیف جسٹس پاکستان نے یہ باور کرایا کہ پرویز مشرف واپس نہ آئے جو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔

بنچ کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ پرویز مشرف کس بات کا تحفظ چاہیے کس خوف میں مبتلا ہیں۔ اتنا بڑا کمانڈو خوف کیسے کھا گیا چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ اتنا بڑا ملک کو ٹیک اوور کرتے وقت خوف نہیں آیا۔ مشرف تو کہتے تھے کہ وہ بار موت سے بچے لیکن خوف نہیں کھایا۔ چیف جسٹس پاکستان نے حیرت کا اظہار کیا کہ پرویز مشرف رعشہ کا مسئلہ ہے تو انتخابات میں مکا کیسے دکھائیں گے ۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ پرویز مشرف واپس آئیں۔ قانون عوام اور عدلیہ کا سامنا کریں۔ عدالت جائزہ لے گی کہ مشرف کو واپس آنے جانے کی اجازت کب دینی ہے۔ فل بنچ نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی ۔ یہ اجازت حکومت کی جانب سے دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط انداز سے بیان کیا گیا۔ فل بنچ نے واضح کیا کہ سندھ ہائیکورٹ فل بنچ کا فیصلہ پرویز مشرف کے راستے کی رکاوٹ ہی. اگر اس رعایت سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو پرویز مشرف کی درخواست کا فیصلہ کر دیا جائے گا ۔

Your Thoughts and Comments