انتخابات میں دھاندلی کے لئے جعلی بیلٹ پیپز کی چھپائی کا کام شروع کردیا گیا ہے

2013 کے انتخابات میں کتنے کروڑ جعلی بیلٹ پیپز کی چھپائی کی گئی تھی ؟اہک انکشاف سامنے آ گیا

بدھ جون 16:46

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ جون ء) دفاعی تجزیہ نگار برگیڈئیر (ر) فاروق حمید کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے لئے جعلی بیلٹ پیپز کی چھپائی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں 25جولائی کو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ الیکشن ملکی تاریخ کا مہنگا ترین الیکشن ہو گا۔

جب کہ 2018کے انتخابات کو فوج کے زیر نگرانی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگار برگیڈئیر (ر) فاروق حمید کا کہنا تھا کہ فوج کو پولنگ اسٹیشن کے باہر نہیں بلکہ اندر بھی ہونا چاہئیے۔کیونکہ 2013ء کے انتخابات میں فوج صرف پولنگ اسٹیشن کے باہر تعینات تھی اس وجہ سے ہمیں کچھ پتہ نہیں چلا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

برگیڈئیر (ر) فاروق حمید کا کہنا تھا کہ بیلیٹ باکس کی سیکیورٹی کے لیے پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی فوج کا ہونا ضروری ہے۔برگیڈئیر (ر) فاروق حمید نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اب ایک بار پھر جعلی بیلٹ پیپرز چھپنے کا آغاز ہو گیا ہے۔جب کہ 2013ء کے انتخابات میں ایک کروڑ 11لاکھ بیلٹ پیپرز اضافی چھاپے گئے تھے۔کسی کو نہیں معلوم کہ وہ بیلیٹ پیپرز کس کے کنٹرول میں تھے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی فوج ہونی چاہئیے تا کہ صاف شفاف انتخابات ہو سکیں۔

یاد رہے کہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 25 جولائی 2018 ء کو ہونے والے عام انتخابات پاک فوج کی زیر نگرانی ہوں گے۔جب کہ عام انتخابات کے دوران سیکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں جس کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز 22جولائی اتوار کے روز ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔ پنجاب میں چھ ہزار پولنگ اسٹیشن حساس قرار دئیے جا چکے ہیں۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں کے حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کلوز سرکٹ کیمرے بھی لگوائے جائیں گے۔عام انتخابات میں سیکیورٹی کے حوالے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے اور سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔2018کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2018کے انتخابی اخراجات کا تخمینہ21ارب ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

Your Thoughts and Comments