پاناما کی نئی دھماکا خیز تفصیلات منظر عام پر،اپریل 2016 سے دسمبر 2017 تک کی 12 لاکھ دستاویزات شامل

پاناما میں آف شور کمپنیوں کی معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا75 فیصد کلائنٹس سے بے خبر تھی ،موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کیلیے اپنا کاروباری نام تبدیل کر کے ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا

جمعرات جون 16:00

پاناما سٹی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات جون ء)پاناما کی نئی دھماکا خیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں، اپریل 2016 سے دسمبر 2017 تک کی 12 لاکھ دستاویزات شامل ہیں،پاناما میں آف شور کمپنیوں کی معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا75 فیصد کلائنٹس سے بے خبر تھی ،موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کیلیے اپنا کاروباری نام بدلا اور ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔

بین الا اقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاناما کی نئی دھماکا خیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں، اپریل 2016 سے دسمبر 2017 تک کی 12 لاکھ دستاویزات شامل ہیں،پاناما میں آف شور کمپنیوں کی معاون قانونی فرم موزیک فونسیکا75 فیصد کلائنٹس سے بے خبر تھی۔۔ نئی دستاویز میں ہونے والے انکشاف کے مطابق پاناما پیپرز کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ میں 70، پاناما میں 75 فیصد مالکان شناخت نہ کرسکی۔

(جاری ہے)

کمپنی نے اپنے کلائنٹس ڈھونڈنے کیلیے 2016 میں سرتوڑ کوششیں کی۔، اس کے علاوہ موزیک فونسیکا اپنے موکلوں کی شناخت میں مصروف رہی۔ ریکارڈ افشا ہونے کے 2 ماہ بعد بھی فونسیکا پاناما کی 75 فیصد آف شور کمپنیوں کے مالکان کی شناخت نہ کرسکی۔ موزیک فونسیکا نے 2016 میں لیک اپنے موکلوں کی ساڑھے 11 ملین فائلیں دیکھیں۔ نئی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ موزیک فونسیکا نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کیلیے اپنا کاروباری نام بدلا اور ساموا میں سینٹرل کارپوریٹ سروسز کا نام اختیار کیا۔

فونسیکا نے کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اورریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگناشروع کردیئے۔ موزیک فونسیکا نے ہردوسرے روز موکلوں کو ای میل پر ای میل بھیجنا شروع کردیں۔اپریل 2016 کو پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا پر پریشان موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا۔ نئی دستاویزات کے مطابق بیشتر پریشان موکل یہ جاننا چاہتے تھے کہ بینی فیشل اونرشپ سے متعلق حساس معلومات افشا تو نہیں ہوگئیں۔

سوئس وکیل نے کمپنی کو فوری بند کرنے کی درخواست کی جس پر فونسیکا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بینک کاریفرنس لیٹر دیں جس پر سوئس وکیل نے جواب دیا پاناما میں تم احمق بیٹھے ہو، قانون کے تحت ہو تو ریگولیٹر تمھیں بند کرڈالے۔پریشان فرانسیسی مشیر نے فونسیکا کو ای میل کی جس میں انہوں نے کہا کہ میرانام اپنی تمام فائلوں سے ڈیلیٹ کردو۔ لکسمبرگ سے بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کلائنٹ کے نمائندے نے لکھا کہ پاناما پیپرز کی وجہ سے اس کے موکل کو کینیڈا میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے پتا فورا بدلا جائے۔

سوئس مینیجر کی جانب سے بھیجی جانے والی ای میل میں کہا گیا کہ ای میلزبھیج کرتم قائل کرنیکی کوشش کررہے ہو کہ صورتحال پرقابوپالوگے، 11 لاکھ 60 ہزار دیگر دستاویزات کی طرح یہ دستاویزات بھی شاید سامنے آجائیں، پروا نہیں۔

Your Thoughts and Comments