بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتکیلے کھائیں ۔۔جان بنائیں

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیلے کھائیں ۔۔جان بنائیں
ماہرین کے مطابق کیلا بے پناہ غذائیت کاحامل پھل ہے جس کا متواتر استعمال نہ صرف جسم کوتوانائی فراہم کرتاہے بلکہ کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
اسد علی:
کیلے کاشمار دنیا کے لذیذترین پھلوں میں ہوتا ہے۔پھلوں کابادشاہ کہلوائے جانے والے آم کے بعد سب سے لذیذ قوت بخش اور زیادہ کھایاجانے والا پھل بلاشبہ کیلا ہی ہے۔کہاجاتا ہے کہ کیلا دنیا کے قدیم ترین پھلوں میں سے ایک ہے جو زمانہ قبل ازمسیح سے استعمال کیاجارہاہے۔مئورغین کے مطابق اعظم نے اسے دریائے سندھ کی وادی میں کاشت ہوتے دیکھا تھا مگر اب یہ دنیا کے بیشتر ممالک کے میدانی علاقوں میں بھی کاشت کیاجاتا ہے۔اطباََ کی رائے میں کیلا گرمی سردی کے موسم میں معتدل اور دوسرے درجے میں ترہے جبکہ بعض کے نزدیک گرم تر ہے۔برصغیر پاک وہند میں اس کی کئی اقسام کاشت کی جاتی ہیں ۔اس کی ہرقسم کااپنا الگ ذائقہ،حلاوت غذائی خصوصیت اور قوت بخش معیار ہوتا ہے۔ان میں سے چند مشہور اقسام انوپان،سہلٹ،ڈھاکا جنگلی،مال ٹھوک،سون بیجا،کوکنی،رائے، رام چینیہ،ہگیرا،نہنگا،چھپا،صغری،بھینسا،بمبئی،ہری چھال اور چتی دار کیلا وغیرہ ہیں۔یہ ایک ایسا پھل ہے جو سال کے بارہ مہینے دسیتاب ہوتا ہے۔اس میں ریشے سمیت شکر کی تین اقسام سکروز، فروکٹوزاور گلوکوز پائی جاتی ہیں اور جب یہ تینوں قسم کے شکر اس کے ریشوں کیساتھ ملتے ہیں تو جسم کوتوانائی بخشتے ہیں۔ پکے ہوئے کیلے میں نشاستہ اور فروٹ شوگر کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔نشاستہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کیلا کھانے سے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔اس میں گوشت بنانے والا جزنائٹروجن زیادہ ہوتا ہے۔کیلے میں کیلشیئم، میگنیشیم، فاسفورس، گندھک، لوہا اور تانبا بھی پایا جاتا ہے۔یہ خون میں ہیموگلوبن(Hemogobin) کی افزائش میں مدد دیتا ہے جوکہ خون کی کمی کو پورا کرتا ہے۔
کیلا کھانے سے افسردگی یاڈپریشن دور ہوجاتا ہے․․․
جدید تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ افسردگی کی حالت میں اگر چند کیلئے کھالئے جائیں توطبیعت کافی بہتر ہو جاتی ہے۔ کیلے میں پایا جانے وال ٹرائی فوٹوفان(Tryphtophan) نامی پروٹین انسان جسم کوریلیکس کرنے کاباعث بنتا ہے۔ اس طرح ہمارے جسم کے ریشے ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور ہم بہتر محسوس کرتے ہیں۔
کیلے کوخوب چباچبا کرپانی سابنا کرحلق سے نیچے اتارناچاہیے․․․
کمزور معدے والوں کواس کے استعمال سے احتیاط کرنی چاہیے۔کچے کیلے کی سبزی گرمی اور خشکی کے نقائص کی رافع ہے۔
بے فکر ہوجائیں․․․ایک وقت میں6سے زیادہ کیلے کھانے سے جان نہیں جاتی․․
کہاجاتا ہے کہ ایک ساتھ زیادہ کیلے کھاناصحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے بلکہ کہا تویہاں تک گیا ہے کہ ایک وقت میں چھ سے زیادہ کیلے کھانے سے جان بھی جاسکتی ہے۔اس مفروضے کے برخلاف لندن میں واقع سینٹ جارج ہسپتال کی کیتھرین کالنزکاکہنا ہے کہ پوٹاشیم ہمارے لیے بے حداہم ہے اور یہ ہمارے جسم کے ایک ایک خلیے میں پایا جاتاہے۔اس سے ہماری دل کی دھڑکن ٹھیک رہتی ہے ذیابیطس کوکنٹرول میں رکھنے میں اہم کردار ہے۔تاہم اگر اس کی مقدار بہت زیادہ یابہت کم ہو جائے تودل کی دھڑکن بے ترتیب ہوسکتی ہے،پیٹ میں درد،متلی اور پیٹ خراب ہوجائے گا۔ایک جوان شخص کو ایک دن میں 3500 ملی گرام پوٹاشیم لینی چاہیے۔ایک 125گرام وزن کے کیلے میں 450گرام پوٹاشیم ہوتی ہے۔ یعنی ایک جوان شخص دن میں کم ازکم ساڑھے سات کیلے کھا سکتاہے۔ ایک صحت مند شخص کوشاید ہرروز400کیلے کھانے پڑیں گے کہ اس کے جسم میں پوٹاشیم کولیول اتنازیادہ ہوجائے کہ وہ جان لیوا ثابت ہو۔لہٰذا یقین رکھیں کہ کیلے صحت کے لئے خطرناک نہیں بلکہ ہمیشہ ہی سے مفید رہے ہیں۔

(3) ووٹ وصول ہوئے