Mongphali Khayeen Tandrusti Payeen

مونگ پھلی کھائیں․․․تندرستی پائیں

جمعہ فروری

Mongphali Khayeen Tandrusti Payeen
مونگ پھلی کو غریبوں کا بادام کہا جاتاہے ۔اس گرانی کے دور میں جب خشک میوے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہوں،چلغوزہ پانچ سے چھ ہزار ،انجیر بارہ سو سے پندرہ سو،بادام دو ہزار کے لگ بھگ اور اخروٹ بھی دوڈھائی ہزار روپوں سے کم میں دستیاب نہ ہوں تو چار سو روپے کلو مونگ پھلی جنت کا پھل ہی محسوس ہو گی ۔موسم سرما میں انسانی صحت کی بحالی ،توانائی ذخیرہ کرنے اور قوت مدافعت بہتر بنانے کے لئے مونگ پھلی کھانا عیاشی نہیں ،ضرورت ہو چکی ہے ۔

اگر کبھی لحاف میں دبک کر چلغوزے کھانے کے معمولات کو موسم کی رومان پروری سے تعبیر کیا جاتا تھا اب مونگ پھلی چھیلنے اور کھانے میں لطف کا لیا جانا بھی کچھ کم سحر انگیز نہیں ۔مونگ پھلی کی کاشت اور پیداوار میں چین اول نمبر پر ہے ۔

(جاری ہے)

کہتے ہیں کہ دنیا کی مکمل پیداوار میں سے 42فیصد یہیں کاشت ہوتی ہے، بھارت کا نمبر دوسرا اور تیسرے نمبر پر امریکہ ہے ۔

اس کے بیش بہا فوائد ہیں۔
مصر کے تحقیقی ادارے Egyptian Society Of Allergy And Immunologyکے ڈاکٹر مجدی بدر ان کے ”مطابق یہ اہم غذائی عنصر ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور توانا بناتاہے۔ مونگ پھلی کا استعمال خون کی شریانوں میں روانی بر قرار رکھتا ہے۔الزائمر اور سرطان سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔بڑھاپے کے اثرات کو بہت حد تک زائل کرتی ہے ۔

اس میں 25فیصد حد تک پروٹین شامل ہے جو انسانی جسم کے خلیوں کی تجدید میں مدد کرتاہے ۔اس میں موجود غذائی عناصر جیسے فولک ایسڈ، کاپر،نیا سین اور دیگر وٹامن جن میں وٹامن Eشامل ہیں۔یہ تمام عناصر دل اور شریانوں کا تحفظ کرتے ہیں اور خراب کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں جبکہ جرثوموں اور زہریلے مواد سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔مونگ پھلی کا چھلکا بھی بے کار نہیں ہوتا بلکہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھر پور ہوتاہے جب روغن نکالا جاتاہے تو چھلکے کو بھی استعمال کر لیا جاتاہے جو کہ اہم معدنیاتی نمکیات کا حامل ہوتاہے۔

مونگ پھلی کے ریشے میں بھی غذائی افادیت موجود ہے مثلاً یہ وزن کم کرنے اور دمے سے محفوظ رکھنے میں معاون ہوتاہے ۔
قدرت کا یہ انمول تحفہ اپنے اندر ٹرپٹو فان بھی رکھتاہے جو جسم میں سیروٹونن مادہ پیدا کرتاہے ۔یہ مادہ انسان کو ڈپریشن اور اعصابی تناؤ کی حالت سے بچا کر مزاج کو نارمل رکھنے میں مدد کرتاہے ۔امریکی تحقیق اس ضمن میں بتاتی ہے کہ مونگ پھلی کھانے سے قلبی فوائد ظاہر ہوتے ہیں۔

اس مطالعے میں جن لوگوں نے خشک میوہ نہیں کھایا تھا ۔ اگر چہ مونگ پھلی خشک میوہ نہیں لیکن اس کے غذائی اجزاء خشک میوے سے بے حد مماثلت رکھتے ہیں۔اگر آپ کو مونگ پھلی سے الرجی نہیں ہوتی تو پھر زائد مقدار میں کھا لینا بھی نقصان دہ نہیں ۔تاہم 17سے18 گرام مونگ پھلی کھانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص بہت لاغر اور نخیف ہوتو مونگ پھلی کھانا مفید رہے گا۔

کینسر سے محفوظ رکھنے میں معاون ہے ۔اس میں پروٹین ،کیلشیئم ،وٹامن E، B1،B6 اور فاسفورس شامل ہیں جو اعصاب کو خاطر خواہ حد تک تقویت دیتے ہیں ۔ذیابیطس ٹائپ 2میں بھی مریض کو فائدہ ملتاہے ۔اس میں موجود فولاد خون کے نئے خلیے بنانے میں مدد دیتاہے۔ باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد کو بھی فائدہ دیتاہے ۔ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط کرنے میں معاونت کرتاہے۔

یہ معدے اور پھیپھڑوں کے لئے بھی مفید ہے اور اس میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو غذائی لحاظ سے سیب ،چقندر اور گاجر کے مقابلے میں وافر مقدار میں ہیں۔جن خواتین کے بال گر رہے ہوں انہیں مونگ پھلی کے استعمال سے فائدہ ہو سکتاہے۔
احتیاطی تدابیر
ماں بننے والی خواتین ڈاکٹر کے مشورے سے کھائیں تو بہتر ہے ۔خارش ہونے کی صورت میں ہر گز نہ استعمال کی جائے۔

ہمیشہ بھنی ہوئی مونگ پھلی کھائی جائے تاکہ اس کے بہتر فوائد حاصل ہو سکیں۔
مونگ پھلی عام الرجن
غذاؤں سے ہونے والی الرجی کی شرح گزشتہ 30برسوں میں زیادہ بڑھی ہے ،بالخصوص صنعتی معاشروں میں یہ واقعات زیادہ دیکھے جارہے ہیں ۔یہ اضافہ کتنا زیادہ ہے ؟اس کا انحصار غذا اور اس جگہ پر ہے جہاں متاثرہ شخص رہتے ہیں۔ 1995ء اور 2016میں برطانیہ میں مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی میں پانچ گنا اضافہ ہو گیا تھا۔

کنگز کالج لندن میں Eatجائزے کے لئے تین سال کی عمر کے جن 1300بچوں پر تحقیق کی گئی تھی ان میں سے ڈھائی فیصد بچوں میں اب مونگ پھلی کی الرجی کی تصدیق ہوئی ہے ۔آسٹریلیا میں غذائی الرجی کی سب سے زیادہ مصدقہ شکایات سامنے آئی ہیں ۔ایک جائزے کے مطابق ایک سال کی عمر کے 9فیصد آسٹریلوی بچوں کو انڈوں سے الرجی ہوئی تھی جبکہ 3فیصد مونگ پھلی سے الرجک تھے۔یہ بھی ممکن ہے کہ الرجی کے عوامل میں ماحولیاتی آلودگی ،غذائی عادات میں تبدیلیاں اور خورد بینی جسیموں کا کردار بھی شامل ہو جن کی وجہ سے انسانی جسم کا مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہو بعض ماحولیات عوامل بھی الرجی کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-21

Your Thoughts and Comments