Namak Sehat K Liye Muzar Ya Mufeed

نمک صحت کے لیے مفید یا مضر

Namak Sehat K Liye Muzar Ya Mufeed

نمک کی زیادتی بلڈ پریشر ‘اوسٹیو پروسس‘گردے کی پتھری‘دل کے بڑھنے اور آنتوں کے سرطان جیسے امراض کا بھی سبب بنتی ہے
عام خیال کیا جاتا ہے کہ گرم آب وہوا کی حامل علاقوں کے افراد کونمک کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ پسینہ زیادہ بہہ جانے کے باعث جسم میں نمک کی کمی واقع ہو جاتی ہے جبکہ یہ بات قطعاً غلط ہے
مریم عزیز چوہان
آج سے کئی صدیوں پہلے تک ہمارے آباؤ اجداد کی خوراک میں نمک نام کی کوئی چیز شامل نہیں ہوتی تھی لیکن پچھلے کئی سوسالوں سے انسانوں نے اپنی روزانہ کی خوراک میں نمک کی مقدار 3-4گرام(جو کہ قدرتی طور پر پھلوں اور سبزیوں میں موجود ہوتی ہے )سے بڑھا کر 10-12گرام کرلی ہے اور نمک کا یہ اضافہ زیادہ تر کیمیائی وتجارتی بنیادوں پر تیارومحفوظ کیے جانے والے کھانوں(Processed Foods)کی تیاری کے دوران یا پھر کھانے کی میز پر دھری نمک دانی سے کھانا کھانے سے قبل کیا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)


یہ حقیقت ہے کہ انسان کی نمک سے وابستگی ثقافتی اور خاصی غیر منطقی ہے اور صرف اسی لیے بہت سے لوگ اپنے کھانوں میں زیادہ نمک شامل کرتے ہیں‘اگر چہ کہ ان کو اس نمک کی ضرورت ہر گز بھی نہیں ہوتی اور انہیں صرف اس کا ذائقہ اچھا لگتا ہے ۔
نمک کو زندگی کا اناج کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ جسم کے خلیاتی افعال (Cellular Activity) کے لیے ایک نہایت اہم عنصر ہے ۔

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ کچھ ثقافتیں نمک سے رسمی اور مذہبی عقید تیں رکھتی ہیں ۔رومن فوجیوں کو اُن کی جرأت پر یوں نوازا جاتا تھا کہ ان کی تنخواہ میں اضافے کے نام پر نمک کی فراہمی میں اضافہ کر دیا جاتا ۔ماضی میں نمک کے لیے کئی جنگیں بھی لڑی گئیں۔(جیسے آج کل تیل پر لڑی جارہی ہیں )۔نمک کی تجارت بھی کبھی ایسے ہی اہم ہوا کرتی تھی ‘جیسے آج اناج کی تجارت ہوتی ہے اور گئے وقتوں میں حکومتوں کی طرف سے نمک پر بھاری ٹیکس بھی عائد کئے جاتے رہے تھے ۔


مہاتما گاندھی نے تو ایک تاریخی نمک مارچ میں بھی حصہ لیا‘جو کہ نمک پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تھی
۔
اب بھی‘نمک کی حالیہ استعمال ہونے والی مقدار ایک متنازعہ صورت اختیار کیے ہوئے ہے ۔بلڈ پریشر کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ میں نمک کی زیادہ مقدار کا استعمال اہم محرک تصور کیا جارہا ہے ۔اس نقطے کو یہ بات ثابت کرتی ہے کہ کچھ اقوام میں اور ثقافتوں میں نمک کی اضافی مقدار بہت ہی کم استعمال کی جاتی ہے جیسے برازیل میں Yanomanno Indiansاور Solomon Islandersوغیرہ۔

محققین نے ان ثقافتوں کے حامل افراد میں بہت کم ہی بلڈ پریشر کے مریض دریافت کیے۔
دراصل نمک کی اضافی مقدار سے مسائل اس لیے بھی عود آتے ہیں کہ گردوں کو نمک کی اس غیر ضروری مقدار کو خارج کرنے میں بہت مشکل در پیش ہوتی ہے جبکہ خون کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کا اہم سبب کیا ہے ؟لیکن اس بابت شواہد یہ بتاتے ہیں کہ10-20 %آبادی صرف زیادہ نمک کھانے کی وجہ سے بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہے ۔


اب تک ایسا کوئی طریقہ دریافت نہیں کیا گیا ہے کہ جس کے ذریعے پہلے سے معلوم ہو جائے کہ آپ نمک کی وجہ سے حساس میں یا نہیں ؟لیکن دانائی اسی میں ہے کہ آپ خود کو نمک سے حساس لوگوں میں شامل کرلیں اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی نمک کی مقدار کو کم کرلیں۔
یہ بھی واضح طور پر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ معتدل اور کم درجے کے بلڈ پریشر کے مریضوں نے جب اپنی غذا میں نمک کی مقدار کو 10-12گرام سے کم کرکے 5-6گرام کیا تو اُن کا بلڈ پریشر واضح حد تک کم ہوا‘جتنا Beta Block Pill)جو کہ بلند فشارِ خون کو کنٹرول کرنے کی دوا ہے )کے استعامل سے فرق پڑتا ہے اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کو کم کرنے والی ادویات کی تاثیر نمک کے استعمال کو کم کرنے سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔

ساتھ یہ بھی شواہد ملے ہیں کہ جہاں نمک کی زیادتی بلڈ پریشر میں خطر ناک اضافے کا پیش خیمہ بنتی ہے ‘وہیں یہ کئی دیگر امراض جیسے Osteoporosis‘گردے کی پتھری ‘دل کے بڑھاؤ اور آنتوں کے کینسر کا سبب بھی بنتی ہے۔
اتفاق سے اکثر لوگ اس مقولے پر یقین رکھتے ہیں کہ گرم آب وہوا کے حامل علاقوں میں لوگوں کو زیادہ نمک کا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کی شدت کے باعث پسینہ زیادہ بہنے سے جسم میں نمک کی کمی واقع ہو جاتی ہے یہ بات قطعاً غلط ہے ۔


بہت سی تحقیقات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جسم میں جتنی مقدار نمک کی جاتی ہے ‘اسے ہمارا جسم اسی حساب سے پسینے کے ذریعے خارج کرتا ہے ‘کم مقدار جانے کی صورت میں کم ہی نمک پسینے سے خارج ہو گا۔
ہمارے گردے نمک کو جسم میں محفوظ کرنے میں بہت محتاط ہوتے ہیں۔
اگر آپ ایک بار اس بات کو مان لیں کہ نمک کی کم مقدار ہی آپ کی اچھی صحت کے لیے ضروری ہے تو یہ کتنا اچھا ہو ۔

اچھی صحت کے لیے نمک کی دُرست مقدار 5-6گرام یعنی ایک چائے کا چمچہ ہے ۔اس میں وہ نمک بھی شامل ہے کہ جو قدرتی طور پر غذاؤں میں شامل ہوتا ہے۔
ہماری موجودہ تمام خوراکیں ہی دو چیزوں سے بھر پور ہوتی ہیں نمک اور چینی۔اس اہم بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ خوراک میں کوئی بھی تبدیلی لانے کے لیے فرد کو اس کا عادی بننے کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے خصوصاً تب جب بات ہو نمک کی۔

زیادہ نمک کا استعمال کرنے والے افراد کو نمک کی کم مقدار سے مطابقت پیدا کرنے میں تقریباً ایک مہینہ لگ سکتا ہے ۔
زیادہ نمکین غذائیں کھانے سے آپ کو بیماریوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔اس لیے اب ہم سب کو چاہیے کہ اپنی اچھی صحت کو بر قرار رکھنے کے لیے آج سے ہی نمک کی کم مقدار کا استعمال شروع کریں تا کہ زندگی صحت وخوشی کے ساتھ گزار کر سکیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-20

Your Thoughts and Comments