Ramzan Or Sehat Bakhash Ghazain

رمضان اور صحت بخش غذائیں

Ramzan Or Sehat Bakhash Ghazain
نسرین شاہین
ماہ ِرمضان المبارک اس مرتبہ بھی موسم گرما میں اپنے نور کی کرنیں بکھیررہا ہے۔رمضان کے آتے ہی دستر خوان انواع واقسام کے کھانوں سے سج جاتا ہے ،جس سے اس کی رونق میں اضافہ ہوتا ہے ۔چاہے سحری ہو یا افطار ،دستر خوان پر ہر قسم کی نعمت موجود ہوتی ہے ،خصوصاً افطار کے وقت بہت خاص اہتمام کیا جاتاہے۔سموسے،پکوڑے ،دہی بھلے اور دیگر اشیاء دسترخوان کی زینت بنتی ہیں۔

اسی طرح سحری میں بھی روغنی اور مرچ مسالے دار کھانے تیار کیے جاتے ہیں ۔رمضان المبارک میں خواتین کی ایک اہم ذمے داری سحری و افطار کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔
سحری ہو یا افطار ،گھر والوں کا مطالبہ بھی زوروں پر ہوتا ہے کہ ان کی پسندکی نت نئی چیزیں تیار کی جائیں۔

(جاری ہے)

ایسے میں سب کی پسند نا پسند کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ،تاکہ گھر کا ہر فرد خوشی اور رغبت سے آپ کے محنت سے تیار کیے گئے پکوان کھاسکے،تاہم یہ روغنی غذائیں ہمارے لیے صحت کے کئی مسائل پیدا کر دیتی ہیں ۔

سب سے پہلے تو رمضان المبارک کی حقیقی روح کو سمجھنا ضروری ہے ۔روزے میں طاقت وتوانائی والی اشیاء کھانی چاہییں۔
اس کے لیے ہمیں ہلکی پھلکی اور غذائیت سے بھر پور سحروافطار کا اہتمام کرنا ہو گا ،جس سے ہمیں جسمانی اور روحانی صحت کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت رب العزت کو راضی کرنے کے لیے بھی میسر آجائے ،لیکن اگر ہم رمضان میں اپنے معمولات کو دیکھیں تو ہم مضر صحت اور کولیسٹرول سے بھر پور غذائیں کھاتے نظر آتے ہیں ،جن سے ہماری صحت کو نقصان پہنچتاہے۔


روغنی،تلی ہوئی اور تیز مرچ مسالوں والی غذاؤں کا سحری اور افطار میں حد سے زیادہ کھانا،مصنوعی میٹھے کی زیادتی اور چینی ملے مشروبات کا کثرت سے پینا،ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ آرام اور سستی وکاہلی،یہ سب مل کر صحت اور جسمانی ساخت کو مکمل طور پر برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،حالانکہ روزوں کی برکت اور عبادت کی کثرت سے اس ماہ مبارک میں رب العزت نے ہمارے لیے ایک مکمل تربیتی پروگرام رکھا ہے ۔

اگر ہم ان اصولوں کو مد نظر رکھ کر اس ماہ رحمت کو گزاریں تو ہم اپنے جسم کے اندر موجود زہریلے مادّوں کو قابو میں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کو بحال کرکے روحانیت کی دولت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
عموماً رمضان کی آمد سے پہلے ہی خواتین کھانے پینے کا سامان خریدلیتی ہیں ۔یہ ایک اچھی بات ہے ،تاکہ گرمی میں بار بار خریداری کے لیے بازار جانا نہ پڑے۔

اپنی خریداری میں اس بات کا خیال رکھیں کہ غذائیں صحت بخش اور غذائیت سے بھر پور ہوں ۔مضر صحت اشیاء چاہے جتنی بھی ذائقے دار ہوں ،خریدنے سے گریز کریں ۔بازار کی تیار شدہ اشیاء کے بجائے گھر پر تیار کی جانے والی غذاؤں کو ترجیح دیں کہ یہ غذائیت سے بھر پور ہونے کے باعث صحت کے لیے بہت مفید بھی ثابت ہوتی ہیں۔
بعض اوقات تو رمضان کے بعد لوگوں کا وزن بھی کافی بڑھ جاتا ہے ،جس کی وجہ روغنی اور تلی ہوئی اشیاء کا کثرت سے کھانا اور مصنوعی میٹھے اور رنگ برنگے مشروبات زیادہ پینا ہے ،جس کی وجہ سے روزوں کی مشقت سے روحانی اور جسمانی صحت حاصل کرنے کے بجائے ہم مزید کسل مندی اور سستی کا شکار نظر آتے ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رمضان میں سحری اور افطار میں اپنے دستر خوان کو کن غذاؤں سے سجائیں؟اس سلسلے میں ہم یہاں ان اشیاء کا ذکر کررہے ہیں ،جو صحت بخش اور غذائیت سے بھر پور بھی ہیں۔
سحری اور افطار میں اعتدال رکھیں ،متوازن غذاکھائیں،جس میں گوشت ،مچھلی ،مرغی ،دالیں ،سبزیاں اور پھل شامل ہوں۔گرمی کی شدت اور روزوں کی سختی کی بنا پر اس ماہِ مبارک میں زیادہ سے زیادہ خالص پھلوں کے مشروبات اور غذائیت سے بھر پور ہلکے پھلکے کھانے کھائیں۔

پھلوں کے تازہ رس صحت کے لیے بہترین ہیں ،اگر آپ سحری میں ایک گلاس تازہ رس پی لیں تو اس سے نہ صرف آپ کی صحت و توانائی بر قرار رہے گی ،بلکہ آپ پورا دن چاق چوبند اور ہلکا پھلکا محسوس کریں گے،پھلوں کے رس کے ساتھ غذائیت سے بھر پور دلیا یا جَو کا دلیا بھی مفید ثابت ہوتا ہے ،خاص طور پر بزرگ افراد کے لیے ۔اس طرح کی سحری سے آپ کا وزن بھی قابو میں رہے گا اور اس کے نتیجے میں توانائی کی بحالی بھی قدرے مستحکم رہے گی۔


سحری میں روغنی اشیاء کھانے سے طبیعت بوجھل رہتی ہے ۔اس طرح افطار میں تازہ رس کے ساتھ مختلف پھلوں کے ملک شیک سے بھی لطف لیا جا سکتا ہے ،جو مصنوعی شربتوں سے بہتر ہیں ۔ساتھ ہی پھلوں یا چنے کی چاٹ یا میٹھے میں کارن فلیکس،پھینی ،جو کا میٹھا دلیا بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔ فروٹ ٹرائفل کھانے سے نہ صرف آپ کی سارے دن کی تھکن دُور ہو جائے گی،بلکہ آپ کو مزید عبادات کے لیے توانائی بھی ملے گی۔

تلی ہوئی اشیاء اور روغنی کھانے ایسی کسل مندی پیدا کرتے ہیں کہ افطار کے بعد طبیعت میں عجیب بوجھل پن اور اپھارے کا احساس کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں چھوڑتا اور اس طرح خواتین گھریلو کاموں کے بھی قابل نہیں رہتیں۔
عموماً ہوتا یوں ہے کہ خواتین تلنے والی اشیاء کو بہت زیادہ مقدار میں تیار کرکے فریزر میں محفوظ کر لیتی ہیں ،تاکہ افطار میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جا سکے،مثلاً سموسے ،رول ،کباب وغیرہ ۔

پھر ان کے ساتھ پکوڑے،پھلکیاں اور دہی بھلے وغیرہ تو عین وقت پر تیار کیے جاتے ہیں ۔ساتھ ہی سحری کے لیے بھی بہت زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے ۔روغنی کھانوں کے بغیر تو بیش تر گھروں میں سحری ادھوری تصور کی جاتی ہے ،یوں خاتون خانہ تو اس ماہِ مبارک میں باورچی خانے کی ہو کررہ جاتی ہیں ،کیوں کہ ان تمام چیزوں کا اہتمام انھیں ہی کوکرنا پڑتا ہے ،جس سے وہ نہ صرف جسمانی بلکہ اعصابی طور پر بھی تھکن کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر صحت پر بھی ان کھانوں کا مثبت کے بجائے منفی اثر ہوتاہے۔


اچھی اور ہلکی پھلکی غذا نہ صرف صحت کے لیے مفید ہے ،بلکہ عبادت میں بھی توانائی بحال رہتی ہے ۔رمضان میں توانائی سے بھر پور غذائی پروگرام پر عمل کرکے قابل رشک جسمانی صحت حاصل کی جاسکتی ہے ،ضرورت صرف مستقل مزاجی کی ہے ۔پھلوں میں قدرتی مٹھاس اور ذائقہ پایا جاتا ہے ،جو ہمارے جسم کے لیے بے انتہا مفید ہے ۔پھل جزوِبدن بن کر ہمارے اندر توانائی پیدا کرتے ہیں ۔خواتین اس بار اپنی غذا کے پروگرام پر کامیابی سے عمل پیرا ہونے کا عہد کریں ،تاکہ رمضان المبارک کی روح کو پانے کے لیے خوب دل لگا کر یکسوئی کے ساتھ عبادت کرسکیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-07

Your Thoughts and Comments