Vitamin D

وٹامن ڈی

Vitamin D
تندرست رہنے کے لئے انسان کو نہ صرف غذا کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ان تمام اجزاء کی ضرورت بھی ہوتی ہے جس سے ہمارا جسم کے تمام اعضا بہتر طور پر کام کرتے ہیں۔ ہمیشہ کوشش کریں کہ روزانہ استعمال کی جانے والی خوراک میں پروٹین ، لحمیات، نشاستہ، چربی، نمکیات اور وٹامنز شامل ہوں۔ یوں تو تمام وٹامنز ہی ہماری صحت کیلئے ضروری ہیں تاہم وٹامن D3کی کمی سے انسان مختلف بیماریوں کاشکار ہوسکتا ہے۔


دل کی بیماری:
ہائی بلڈ پریشر اور دل کے پٹھوں کے نقص Cardiomyopathyکا باعث وٹامن ڈی3کی کمی کو پایا گیا ہے۔ وٹامن ڈی 3کے اضافی سپلیمنٹ سے ان دونوں بیماریوں میں مبتلا لوگوں میں اموات کے خطرات میں کمی دیکھی گئی ہے۔ RASہارمونز کا ایک ایسا نظام ہے جو بلڈ پریشر اور جسم میں موجود مائع کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

جب خون کاحجم کم ہوتو گردوں میں موجود خلئے براہ راست دوران خون میں رینن نامی ایک پروٹین خارج کرتے ہیں جو وٹامن ڈی3کی سطح کو برقرار رکھتا ہے۔


ہڈیوں کی صحت:
وٹامن ڈی 3کاسب سے نتیجہ خیزاثر ہڈیوں کی صحت کو برقرا ر رکھنا ہے۔ وٹامن ڈی3کیلشیم کے جذب ہونے کو بڑھتا ہے، ہڈیوں کی صحت کے لئے کیلشیئم اور فاسفیٹ کی سطح کو قائم رکھتا ہے۔وٹامن ڈی 3نہ صرف ہڈیوں کی نشوونما کیلئے بلکہ یہ آسٹیوبلاسٹ اور آسٹیوکلاسٹ ہڈیوں کی دوبارہ تشکیل کیلئے بھی ضروری ہے۔ وٹامن ڈی 3کی کمی سے ہڈیاں پتلی آسانی سے ٹوٹنے والی اور بے ڈھنگ ہوجاتی ہیں۔

اس کی کمی بچوں میں رکٹس Ricketsاوبالغ افراد میں Osteomaiaciaکا باعث بنتی ہے۔
جلد کی صحت :
وٹامن ڈی 3میکروفجسس Macrophagesنامی سفید خلیوں کی ایک قسم کو تحریک بخشتا ہے اور یہ سفیدخلئے مہاسوں کو ختم کردیتے ہیں۔ یہ مہاسی بیکٹیریا سے لڑنے کے سلسلے میں ایک نہایت اہم خصوصیت ہے ۔ باقی سفید خلئے مہاسوں والے بیکٹریا کو سوزش کے ذریعے مار ڈالتے ہیں۔

یہ بیکٹریا ایسی پروٹین خارج کرسکتے ہیں جو کہ سوزش کاباعث بن کر خود جلد کو ہی تباہ کردیں ۔ دونوں کی سرخی اور سوجن کی یہی وجہ ہے۔
بہترین قوت مدافعت:
قوت مدافعت بڑھانے میں وٹامن ڈی تھری کابنیادی کردار ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی صحت کے تحفظ کے ایک اہم عنصر کے طور پرمانا جاتا ہے۔ وٹامن ڈی 3کو طبعی مدافعتی نظام کے طور پربیان کیا جاتا ہے اور Vitamin D 3 receptor CDRSکے فعال ہونے پر کیلشیم کے تحلیل ہونے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2016-03-18

Your Thoughts and Comments