Apnay Gurdon Ki Fikar Kiijiye

اپنے گُردوں کی فکرکیجیے․․․․

Apnay Gurdon Ki Fikar Kiijiye

گردہ انسانی جسم کا ایک اہم جُز ہے ۔یہ جسم میں ایک بنیادی اور اہم کام سر انجام دیتا ہے،انسانی جسم میں یہ ایسا حصہ ہے جو کہ بہت سے اہم کام سر انجام دیتا ہے یہ خون کو صاف رکھنے میں کام آتا ہے اور کیمیائی طور پر خون کو متوازن رکھتا ہے ،گردے کے جسم میں 200لیٹر خون اور 2ملی لیٹر گندے اجزاء اور زائد پانی کا اخراج کرتے ہیں ۔یہ گندا پانی اور خون پیشاب کی صورت میں انسانی جسم سے خارج ہوتا ہے ،
خون میں گندے مادے پرانے اور ضائع شدہ خلیوں کی وجہ سے آجاتے ہیں اور انکا خون سے خارج ہونا نہایت ضروری ہے۔


اگر گردے یہ اجزاء بروقت جسم سے خارج نہ کریں تو یہ جسم میں رہ کر تہہ بنالیں گے اور اندرونی نظام وقوت مدافعت کو نقصان پہنچا ہیں گے ۔اس سے بہت بیماریوں با آسانی لاحق ہوتی ہیں ۔

(جاری ہے)


گردوں کے مرض سے آگہی کے لیے عالمی دن مارچ میں ہر دوسرے جمعرات کو منائی جاتی ہے ۔اس سال14مارچ کو گردوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔
دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،ادارہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ پندرہ سے بیس فیصد اضافہ ہورہا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق گردے کے مرض کی وجہ بلند فشارِ خون ،ذیابیطس ،ذہنی دباؤ اور پانی کم پینا ہے ،گردوں کے امراض سے بچنے کیلئے پانی کے زائد استعمال،سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ضروری ہے۔
آئیے پہلے ہم دیکھیں کہ گردہ کیا ہے ؟اور ہمارے جسم میں اس کی کیا کار کردگی ہے ۔
ہمارے جسم میں بیضوی شکل کے دو غدودجولوبیے کے بیج کی مانند ہوتے ہیں اورکمرکے نچلے حصے میں ریڑھ کی ہڈی کے دائیں بائیں ہوتے ہیں۔

یہ غدود جنہیں گردے Kidneyکہا جاتا ہے ہمارے جسم کے اعضائے رئیسہ میں شمار کئے جاتے ہیں ۔بایاں گردہ دائیں گردے سے قدرے اونچا ہوتا ہے ۔ہر گردے میں سے اوسطا ساڑھے سات لیٹر خون ایک گھنٹے میں گزر جاتا ہے ۔ایک نہایت دلچسپ امریہ ہے کہ گردے تقریباً چوبیس لاکھ خورد بینی ساخت کے اجزاء نیفرونNephronپر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایک نیفرون اپنی ساخت کے اعتبار سے ایک مکمل گردے کی حیثیت رکھتا ہے ۔

آپ کے جسم میں موجود یہ فلٹر پلانٹ اپنے افعال کی انجام دہی چوبیس گھنٹے جاری رکھتا ہے ۔
جیسے جیسے صنعتی نظام اپنی ہمہ گیریت کے ساتھ پھیلتا گیا،زمین پر آلو دگی نے اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دئیے۔فیکٹریوں کا آلودہ پانی اور مختلف کیمیکلز سمندر اور دریاؤں میں پھینکے جانے لگے اور اس حقیقت کو فراموش کر دیا گیا کہ اس عمل کے نتیجے میں پینے کا پانی زہر آلود ہو جائے گا۔


اب آلودگی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس پر قابو پانا نہایت مشکل ہو گیا ہے ۔
یہ آلودگی ہی ہے جس کے نتیجے میں گردے کی بیماریوں میں مبتلا انسانوں کی بہت بڑی تعداد اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں گردے کے امراض تشویش ناک حد تک بڑھ چکے ہیں ،ہر سال ہزاروں افراد محض گردوں کے امراض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں ۔


پاکستان کے معروف سرجن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی اور ڈاکٹر انوار نقوی کی یہ رائے ہے کہ آلودگی اور غیر مصفاپانی گردے کے امراض کا بنیادی سبب ہیں ۔پاکستان میں گردے کے امراض مندرجہ ذیل ہیں:
1۔گردے کی پتھری
2۔گردے کی سوزش،انفیکشن
3۔پیشاب میں رکاوٹ
یہ امراض کسی فرد کو عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں ۔
کچھ امراض پیدائشی بھی ہوتے ہیں مثلاً گردوں کا اپنی جگہ نہ ہونا وغیرہ ۔

دونوں گردے ایک جگہ ہونا،پیشاب کے راستے میں رکاوٹ محسوس کرنا ،پیشاب کی نالی میں خرابی اور جسم سے زیادہ خون بہہ جانا۔
علامات:
ناکارہ گردے کی حسب ذیل علامتیں ہیں ۔بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا ،کمر کے نچلے حصے میں گردے کی طرف تکلیف محسوس کرنا،چہرہ اور پاؤں کا سوجنا ،پیشاب میں جلن محسوس کرنا ،بار بارپیشاب آنا،متلی یا الٹی کرنا ،تھکاوٹ محسوس کرنا،بھوک نہ لگنا ،خون کی کمی محسوس کرنا،مسلسل بخار رہنا ،سانس پھولنا ،پیشاب میں پیپ آنا،گھبراہت اور نیند کا نہ آنا ،ذیابیطس کا مریض ہونا ۔

یہ وہ علامتیں ہیں جو ایک ناکارہ گردے کے مریض میں عموماًپائی جاتی ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد گردے کے امراض کی کئی واضع علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے ۔طبی ماہرین کے مطابق درج ذیل نشانیاں سامنے آئیں تو ڈاکٹر سے ضرور رجو ع کیا جانا چاہیے۔
گردے پیشاب بنانے کے ذمہ دار ہیں اور اس کے ذریعے جسم کے کچرے کا اخراج کرتے ہیں ،اگر پیشاب کی بو ،رنگت وغیرہ میں تبدیلی آئے تو اسے کبھی نظر انداز مت کریں ۔

گردے اپنے افعال درست طریقے سے سر انجام نہیں دے پاتے تو زہریلا مواد جسم سے پیشاب کے راستے خارج نہیں ہوتا اور خون میں موجود رہتا ہے ،اس مواد کی سطح بڑھنے سے بے خوابی کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے ۔دورانِ نیند سانس لینے میں مشکل بھی سامنے آسکتی ہے۔
تھوڑی سی جسمانی سرگرمی کے بعد اگر سانس پھولنے لگے تو اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں ۔ایک تو گردوں کے کام نہ کرنے سے جسم میں اضافہ سیال پھیپھڑوں میں جمع ہونا،دوسری خون کی کمی جسم میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں سانس گھٹنے لگتا ہے ۔

اگر تھوڑا کام کرنے کے بعد بھی سانس لینے میں مشکل ہوتو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ گردوں سے ہٹ کر دمہ ،پھیپھڑوں کے کینسر اور ہارٹ فیلےئر کی نشانی بھی ہو سکتی ہے۔
اگر گردے مسائل ہوں تو ای پی او نامی ہارمون کی مقدار کم بنتی ہے جس سے خون کے سرخ خلیات میں کمی آتی ہے جو جسم اور دماغ کو اچانک تھکاوٹ ،سر درد اور جسمانی کمزوری میں مبتلا کر دیتا ہے ۔

ایسے میں کھانے کا ذائقہ بد لا ہوا محسوس ہوتا ہے ،سانس میں بو پیدا ہونا بھی دوران خون میں زہر یلا مواد جمع ہونے کی علامت ہے ۔ایسا ہونے پر بھوک کی خواہش بھی کم یا ختم ہو جاتی ہے ،جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں غیر متوقع کمی آتی ہے ۔
خشک اور خارش زدہ جلد بھی اس بات کی نشانی ہے کہ گردے منرلز اور غذائی اجزاء کا درست توازن نہیں رکھ پارہے۔

جلد خشک اور خارش زدہ ہورہی ہے تو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اور خارش کے لیے کوئی دو ا لینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لینا چاہیے۔
جب گردے جسم سے اضافی سیال کو خارج کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو نمکیات کا اجتماع ٹخنوں ،پیروں اور ہاتھوں کے سوجنے کا باعث بنتا ہے ۔عام طور پر دائیں جانب پسلی کے نیچے اور کمر اور پیر میں درد گردوں میں مواد جمع ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

کمر میں درد کے ساتھ بخار ،متلی اور پیشاب زیادہ آنے کی تکلیف بھی ہو سکتی ہے ۔گردوں کے نظام میں خرابی کی ابتدائی علامات میں سے ایک آنکھوں کے اردگرد کا حصہ پھولنا ہوتا ہے ، یہ اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گردوں سے بڑی مقدار میں پروٹین کا اخراج ہورہا ہے ۔اگر جسم کو مناسب آرام اور پروٹین ملے اور پھر بھی آنکھوں کے اردگرد پھولنے کا عمل جاری رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔


دوران خون اور گردے ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں ،گردوں کی خرابی خون کے دباؤ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کڈنی فیلےئر کا خطرہ بڑھانے والی دوسری بڑی وجہ ہے ۔
طریقہ علاج
اگر کسی انسان کے گردے نا کارہ ہو جائیں تو اس کی زندگی بچانے کے لئے تین طریق علاج موجود ہیں :
پیرا ٹونیل ڈایا لیسسPeratoenal Dialysis،ہیمو ڈایالیس Hemo Dialysisاور گردے کی پیو ندکاری Kidney Transplant
پیراٹونیل ڈایالیسس:
گردوں کی صفائی کا یہ طریق کار آسان ہے لیکن اس کا استعمال ایمر جنسی کے وقت کیا جاتا ہے ۔

خرابی گردہ کے ایسے مریض جن کے خون میں یوریاUREAاچانک بڑھ جاتا ہے یاوہ مریض کے گردے جسم سے زیادہ مقدار میں پانی یا خون نکل جانے کی صورت میں کام کرنا بند کر دیتے ہیں ۔مثلاً بچے کی پیدائش یا حمل ضائع ہونے کی صورت میں خون کا زیادہ بہہ جانا،پانی کی کمی اور بعض ادویہ بھی گردوں کے فعل کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں ۔ان تمام صورتوں میں یہ طریق کار استعمال کرتے ہیں
ہیمو ڈایالیسس:
گردے اگر کسی بیماری،انفیکشن یا خرابی کے باعث اپنا کام چھوڑ دیں تو خون میں ان زہریلے فاسد مادوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے جنہیں عام حالات میں گردے پیشاب کے ذریعے میں باہر نکال پھینکتے ہیں ۔

ایسی صورت میں اگر بیماری کو جلد ہی ختم نہ کیا جائے تو مریض کی زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔
خون کی صفائی کے متبادل مشینی انتظام کا نام ڈایالیسس ہے ۔بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ گردے کچھ وقت کے لئے اچانک کام بند کر دیتے ہیں تو ایسی صورت میں ڈایالیسس مشین کے ذریعے سے خون کی صفائی کا عمل انجام دیا جاتا ہے تاکہ گردوں کو وقتی طور پر آرام دیاجاسکے۔

عین ممکن ہے کہ وہ دوبارہ کام شروع کردیں ۔اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر زندگی بچانے کے لئے دو علاج ڈایالیسس یا ٹرانسپلانٹیشن یعنی گردے کی پیوندکاری اختیار کرنے پڑتے ہیں۔
غذا سے علاج
صدیوں کی تحقیق سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس مرض کا علاج مناسب غذا کا استعمال ہے ۔
امراض گردہ کے صحیح اور اصولی علاج میں غذاؤں کو خاص اصول سے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔

دورانِ علاج ایسی غذائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جو اس مرض کو کم کرنے میں مدد گار ہوتی ہیں ۔ایسی غذاؤں کو ترک کرنا ہوتا ہے جو اس مرض کے بڑھانے میں مدد گار ہوتی ہوں۔
جسمانی خلیات کے تغذئیے کے دوران بہت سے تیزابی فضلات بنتے ہیں جس کے بڑے حصے کو گردے سیال FLUIDحالت میں پیشاب کے ذریعے سے جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں ۔اگر گردوں کا فعل سست پڑ جائے تو یہ تیزابی مادے جسم کے اندر رہ کر صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔


اگر گردے اپنا کام صحیح نہ کررہے ہوں تو غذا توجہ دینا چاہئے تاکہ سیال کی مقدار خواہ اس میں ڈایالیسس ہی کیوں نہ شامل ہو ،حسب ضرورت رہے ۔وہ غذائیں جن میں مندرجہ ذیل اشیاء پائی جاتی ہیں ،حسب ذیل ہیں:
1۔پروٹین 2۔کیلوریز
3۔سوڈیئم 4۔پوٹاشیئم

5.سیال 6۔فاسفورس
پروٹین:
پروٹین پیچیدہ نائٹروجن مرکبات ہیں جو عام طور پر کاربن ،ہائیڈروجن اور نائٹروجن پر مشتمل ہوتے ہیں ۔

(پروٹین )لحمیات زیادہ تر جانوروں کے گوشت سے حاصل ہوتے ہیں اس لئے انہیں ”لحمیات “کہتے ہیں ۔اس کے علاوہ بعض نباتی غذاؤں ،دالوں وغیرہ میں بھی لحمیات موجود ہوتے ہیں ۔معیاری لحمیات مرغی ،انڈے ،گوشت ،مچھلی ،پنیر وغیرہ میں ہوتے ہیں جبکہ کم معیاری لحمیات روٹی ،دلیہ، دالوں اور سبزیوں میں شامل ہوتے ہیں ۔ضرورت سے زیادہ لحمیات قے اور متلی کا باعث بنتی ہیں ۔


لحمیات کی کمی سے اعصاب کمزور ہو کر زخم دیر سے صحیح ہوتے ہیں ۔بیماری سے صحتیاب ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے ۔بیماری کے مزید امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
کیلوریز:
جب بدن میں غذائی مادوں کی تکسید OXIDATIONہوتی ہے تو اس عمل کے نتیجے میں حرارت پیدا ہوتی ہے ۔اس طرح بدن میں پیدا ہونے والی حرارت کی مقدار کو CALORIESمیں ناپا جاتا ہے ۔
سوڈیئم :
نمکیات بھی خوراک کا جُز ہیں ۔

ان میں سے ایک سوڈےئم ہے ۔سویا ساس ،سوپ ،ہنٹریف میں سوڈےئم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔سوڈےئم کی زیادہ مقدار سے پیاس بہت لگتی ہے ۔ضرورت سے زیادہ نمکیات کا استعمال نہیں کرنا چاہئے اس سے فشارِ خون BLOOD PRESUREبلند ہو جاتا ہے ،جسم میں سیال کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ضرورت کے مطابق غذا میں سوڈےئم استعمال کرنا چاہئے۔
زیادہ نمک کھانے سے قلبی امراض کے مکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔

دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء میں اور سرخ گوشت اور مچھلی میں سوڈےئم زیادہ ہوتا ہے ۔
پوٹاشیئم:
پوٹاشیئم غذا کا اہم ترین جُز ہے ۔یہ خصوصیات میں موجود ہوتا ہے ۔عموماً ناکارہ گردے کے مریضوں میں پوٹا شےئم کے زیادہ استعمال سے خون میں پوٹا شےئم کی کثرت ہو جاتی ہے ۔بڑی مقدار میں پوٹا شےئم خارج کرنے سے گردے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔

اس سے دل کے مختلف امراض بھی پیدا ہو سکتے ہیں ۔
پوٹاشیئم (نمک کی خاص قسم )ناکارہ گردے والے کے جسم میں زیادہ پایا جاتا ہے ۔اس میں تمام قسم کے خشک میوہ جات ،چاکلیٹ اور اس سے تیار شدہ غذائی اشیاء ،پھل اور پھلوں کے رس ،مختلف سبزیاں مثلاً آلو،پالک،ٹماٹر ،گاجر ،سویابین ،کالی مرچ،سونف اور دیگر نمکین اشیاء میں چیوڑا ،چپس ،نمکو اور ایسی متعدد اشیاء شامل ہیں ۔

ان میں پوٹاشےئم کافی حد تک پایا جاتا ہے ۔گردے کے مریضوں کو ان اشیاء کو کم استعمال کرنا چاہیے۔
پوٹا شیئم سبزیوں میں پایا جاتا ہے ۔سبزیوں میں موجود پوٹاشےئم کی مقدار کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ:سب سے پہلے سبزیوں کو اچھی طرح دھوئیے۔سبزیوں کو برتن میں دو گھنٹے تک بھیگنے دیجئے۔
سبزیوں کو ایک برتن میں اچھی طرح ابالیں اور اس کے بعد پانی کو پھینک دیجئے ۔

ان سبزیوں کو دوبارہ پکائیں اور اس میں حسب ضرورت مسالے ڈالیں ۔اس طرح سبزی پوٹاشےئم کی مقدار کافی حد تک کم ہو جاتی ہے ۔
سیالات:
ضرورت سے زیادہ پانی یا مشروبات کے استعمال سے گردے کے مریضوں میں مندرجہ ذیل شکایات پیدا ہو جاتی ہیں ۔مثلاً سانس لینے میں دشواری ،چلنے میں تکلیف،سوتے میں کھانسی ،نیند کا نہ آنا ،پھیپھڑوں میں سوجن ،بلڈ پریشر کا بڑھ جانا،گھٹن محسوس ہونا وغیرہ ۔

ان حالات میں حرکت قلب متاثر ہو سکتی ہے۔سیالات کی مقدار کو مناسب رکھنے کے لئے اپنے پیشاب کی مقدار کو ناپنا اور اس مقدار سے صرف 2کپ(16اونس)زیادہ پانی استعمال کرنا چاہیے۔
ایسی تمام چیزیں جو عام درجہ حرارت پر مائع کی شکل میں ہوں ،جیسے برف ،آئس کریم ،قلفی یہ تمام اشیاء سیالات میں شمار کی جاتی ہیں۔
پیاس کم کرنے کا طریقہ:
1۔سوڈیئم کے بارے میں دی گئی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔


2۔ٹھنڈے پانی سے خوب کلیاں کرنی چاہئیں لیکن پانی پینا نہیں چاہیے۔موسم کا خیال رکھنا لازمی ہے۔
3۔لیموں چاٹنے سے تھوک زیادہ پیدا ہوتا ہے اور منہ خشک نہیں ہوتا۔
4۔پانی کے بجائے برف کا ٹکڑا چوسنا چاہیے۔
5۔5برف میں تھوڑا سا لیموں کا رس شامل کر لینا چاہیے۔
6۔انگور کے 20دانے فریزر میں جما لیجئے اور دن بھر کھاتے رہئے۔

چیونگم سے پیاس کم ہو جاتی ہے ۔
8۔دھوپ کی شدت سے بچنا چاہیے تاکہ کم سے کم پیاس لگے۔
9۔اےئر کنڈیشن کمرے میں زیادہ دیر تک رہنے سے حلق خشک ہو جاتا ہے ۔
10۔چہرے اور جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالتے رہنے سے ٹھنڈک محسوس ہوگی۔
فاسفورس:
فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما کے لئے ضروری ہے ۔فاسفورس کی زیادہ مقدار سے غدہ درقیہ کا فعل بڑھ جانے Hyper Parathyroidکی شکایات پیدا ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہڈیوں میں سے کیلشیم خارج ہونے لگتا ہے اور کیلشےئم کی کمی سے ہڈیوں کی نشوونما رک جاتی ہے ۔


پنیر ،سالم اناج کی روٹی ،لوبیا،بیکنگ پاؤڈر،چاکلیٹ ،مٹر ،خشک میوہ جات ،دہی ،فیرنی ،کسٹرڈ ،
مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے۔
فاسفورس ہونے کی وجہ سے غذا میں احتیاط ضروری ہے ۔اگر یہ احتیاط نہ ہوسکے تو دوا استعمال کرنی ہو گی جس سے نظام ہاضمہ درست رہے گا۔کچھ غذاؤں میں فاسفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔بہتر ہے کہ صرف دودھ آدھا کپ لیں اور زیادہ دہی استعمال نا کریں۔

زیادہ فاسفورس سے جسم میں کھجلی محسوس ہوگی۔یہ عمل زیادہ تررات کو ہوتا ہے ان تکالیف سے بچنے کے لیے فاسفورس کی مقدار میں کمی ضروری ہے۔
گردے کی پیوندکاری
گردے کی پیوندکاریKIDNEY TRANSPLANTATIONایک جراحی عمل کا نام ہے جس نے طبی سائنس وعمل جراحی کو ایک بلند مرتبہ دیا۔گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لئے جراحی زندگی کی آخری کرن ہے ۔ڈایالیسس کے مقابلے میں گردے کی پیوندکاری یقینا زیادہ بہتر علاج ہے کیونکہ آپریشن کے بعد مریض تقریباً معمول کی زندگی گزارتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-15

Your Thoughts and Comments