وزیر اعلیٰ پنجاب کے شہر کے ٹیچنگ ہسپتال کی حالت زار

جہاں انسانوں کی زندگیوں کو بچانا چاہیے تھا وہاں اب مریضوں میں انتظامی اور پیشہ وار انہ نااہلیت کی بناپر موت بانٹی جارہی ہے

محمد متین خالد پیر جنوری

wazir aala punjab k shehar k teaching hospital ki halte zaar
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے شہر کا اکلوتا ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان جوکہ ڈیرہ غازی خان ، راجن پور اور بلوچستان کے علاقہ جات بارکھان ،رکنی ، لو رالائی سمیت دیگر قبائلی علاقہ جات کے لاکھوں مریضوں کی واحد علاج معالجے کی اُمید گاہ ہے۔ اُس ہسپتال کو چند سیاسی اور مفاد پرست عناصر نے اپنے اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل اور کرپشن کی خاطر سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔

 
جہاں انسانوں کی زندگیوں کو بچانا چاہیے تھا وہاں اب مریضوں میں انتظامی اور پیشہ وار انہ نااہلیت کی بناپر موت بانٹی جارہی ہے۔ڈی ایچ کیو ہسپتال سے اِس کی ٹیچنگ ہسپتال اپ گریڈیشن پر اب(جون2018 ( تک کم و بیش تقریبا ً993.359ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔مگر تاحال ٹیچنگ ہسپتال کی سہولیات سے عوام محروم ہے اور 2014سے جاری یہ اپ گریڈیشن تاحال پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی حالانکہ وزیر اعلی ٰپنجاب، مشیر صحت پنجاب ، سیکٹریری ہیلتھ ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان گاہے بگاہے عوام کو خوشخبری سُنا تے رہتے ہیں کہ فلاں تاریخ تک یہ اپ گریڈیشن مکمل ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

مگر صد افسوس عوام کو اِس اپ گریڈیشن کے نام پر ہر وزٹ کے بعد ایک نئی تاریخ کا خواب دکھا دیا جاتا ہے۔ اگر یہ ہسپتال تخت لاہور کا ہوتا تو اب تک ایک سال میں بن چکا ہوتا ۔ اِس اپ گریڈیشن پر خر چ ہونے والے فنڈز کی کہانی ایک مکمل کرپشن کی فلم ہے
14ستمبر 2018کو جب ڈاکٹر عتیق الرحمان چستی کو انتظامی بنیاد کے جواز پر ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان کی میڈیکل سپریٹنڈنٹ کی سیٹ سے ہٹایا گیا تھا۔

اُس وقت حکومتی عہدہ داروں اور چند مفاد پرست عناصر کی جانب سے یہ آواز گونجی تھی کہ ٹیچنگ ہسپتال کرپشن کا گڑھ بن چکا تھا۔ اِس لیے ڈاکٹر عتیق الرحمان ، سپریٹنڈنٹ ضیا ء اللہ اور اکاؤنٹنٹ نذر حسین جڑھ کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ بے شک جو بھی کرپشن کرئے اُ س کو اب نشان عبرت بنا دینا چاہیے مگر سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقریبا ًچار ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے کرپشن کی مکمل کہانی منظر عام پر کیوں نہیں لائی جارہی؟آخر اِن تینوں سرکاری ملازمین کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں اور اِس معاملے پرہونے والی پیش رفت کو عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جار ہا۔

؟ اگر انہیں کسی گیم پلان پر نکالا گیا ہے توبا عزت نوکری کرنا ہر سرکاری ملازم کا حق ہے ۔ اگر کرپشن ثابت نہیں ہو رہی تو انہیں واپس لایا جائے۔ 
ڈاکٹر عتیق الرحمان چستی کے بعد ڈاکٹر عقیل احمد افغان کو اضافی چارج دیا گیا مگر فقط د د ہفتوں میں ایک ایم پی اے کا فون نہ سننے کی پاداش میں اُ س کو بھی ہٹا دیا گیا ۔ اُس کے بعد ڈاکٹر گل حسن شاہ کو اضافی چارج سونپا گیا ۔

پھر شور گونجا کہ اب حکومت پنجاب باقاعدہ انٹرویو کرئے گی اور میرٹ پر ایک قابل ترین ماہر منتظم ڈاکٹر کو میڈیکل سپریٹنڈنٹ تعینات کیا جائے گا۔ چند دنوں بعد انٹرویو کی صدا سُنی گئی مگر13نومبر 2018کو ایک ایسے ڈاکٹرشا ہد سلیم کو یہاں ایم ایس تعینات کر دیا گیاجو اُمیدواران انٹرویو میں شامل بھی نہیں تھا۔ یہ وہ پہلی آہٹ تھی جس نے میرٹ کو پامال کیا اور چغلی کھائی کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کا ہنی مون پیریڈ بھی ختم ہو چکا ہے اورکسی بااثر سیاسی فرد کا منظور نظر ڈاکٹر شاہد سلیم سربراہ ٹیچنگ ہسپتال بھی بن چکا ہے مگر عوام آج بھی مایوس ہے اور صحت و زندگی کی تلاش میں موت کے صحرا میں گم ہو رہی ہے۔ اِس ہسپتا ل کا ریکار ڈ ہے کہ یہاں کسی بھی نامور مریض کا علاج نہیں کیاجاتا ہے اُس کو فوری طورپر ملتان شفٹ کر دیا جاتا ہے۔

اِس ہسپتال میں شفا پانے والے مریض ہسپتال انتظامیہ کی مہربانی سے نہیں بلکہ شفا منجانب اللہ سے ہی شفا پا رہے ہیں۔یہاں کوئی مریض موت کے منہ سے بچ جائے تو یہ اُس کی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ 
گذشتہ ایک ہفتہ میں ایک صحافی کی خالہ، پی ٹی آئی رہنما راشد بخاری، شیخ توقیر وحید سمیت دیگر کئی نامورافراد اِس ہسپتال کی غفلت کی بناپر زندگی کی بازی ہا ر چکے ہیں۔

اگر انہیں بروقت درست علاج معالجہ ملا جاتا تو یقینی طورپر وہ بچ سکتے تھے۔ مگر یہاں کا مافیا بہت طاقتور ہے۔ نجانے روز کتنے لوگ جنہیں ہم نہیں جانتے وہ سسک سسک کر یہاں مر رہے ہیں۔ ہر بار مخصوص قسم کی شکایات بیان کی جاتی ہیں مثلاً سینئر ڈاکٹر کال پر پہنچ نہیں سکا۔ ادویات کی قلت تھی اور سہولیات کا فقدان ہے۔
ہر سال حکومت پنجاب اِس ہسپتال کے بجٹ میں اضافہ کر رہی ہے۔

امسال اِس ( ڈی جی خان میڈیکل کالج بشمول ٹیچنگ ہسپتال ) کاسالانہ بجٹ02 ارب 40کروڑ 98لاکھ 10ہز ار روپے کر دیا گیا ہے جوکہ گذشتہ سال کی نسبت 56کروڑ 85لاکھ اور 88ہزار روپے زیادہ ہے۔یہی بجٹ تمام کرپٹ مافیا کے لیے کشش کا باعث ہے۔ افسران بدل رہے ہیں مگر کرپشن کا دھندہ آج بھی حسب سابق جاری ہے۔ ہسپتال کی ادویات کی خریداری میں بے ایمانی کی جاری ہے۔

لوکل پرچیز کی ادویات سے من پسندافراد کو سرعام نوازا جا رہا ہے۔ معززین کی ایک طویل فہر ست ہے جو مفت ادویات سے فیض یا ب ہور ہے ہیں۔ پرچیز کمیٹیاں برائے نام رہ گئی ہیں۔ ٹھیکہ جات کو شاہی اندازمیں قو انین کو بالائے طاق رکھ کر من پسند افراد کو نواز ا جا رہا ہے۔ ہسپتال کا سٹاف حسب سابق اپنی اجارہ داری برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایم ایس ڈاکٹر شاہد سلیم کے کردار اور زبان پر سوالات جنم دے گئے ہیں۔

نرسنگ طالبات نے ایم ایس آفس کے سامنے دن دیہاڑے احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان کو تحریری طور پر ہسپتال میں گرتی ہوئی اخلاقی قدروں کی نشاندہی کی ہے۔ تمام الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر سٹوڈنٹس کے احتجاج اور مظاہرہ کا ریکارڈ موجود ہے مگر کمال تو یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار اور مشیر صحت پنجاب محمد حنیف خان پتافی بھی خاموش ہیں۔

 
نئے پاکستان میں عوام کو جو خواب دکھائے گئے تھے اُن خوابوں میں کرپشن کے ناسور کے خاتمہ کا ایک دعوی بھی تھا مگر طالبات کے احتجاج نے تو ہسپتال میں اخلاقی پستی کو بے نقاب کرکے تبدیلی کے دعوی داروں کو شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے۔نئے پاکستان کی راہ پر گامزن قوم اب کس کواپنارہبر کرئے اور کس کو راہزن قرار دے ۔کچھ سمجھ نہیں رہا۔ 

Your Thoughts and Comments

wazir aala punjab k shehar k teaching hospital ki halte zaar is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 January 2019 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.