بنوں ڈویژن پر اب تک اللہ تعالیٰ کا خصوصی رحم و کرم ہے جو کورونا وائرس سے محفوظ ہے ،عادل صدیق

حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ،بنوں ڈویژن میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کیلئے 1360 بیڈز کا انتظام کیا گیا ہے،کمشنر بنوں

بدھ مارچ 22:57

بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 مارچ2020ء) کمشنر بنوں ڈویژن عادل صدیق نے ڈپٹی کمشنر محمد زبیر نیازی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ بنوں ڈویژن پر اب تک اللہ تعالیٰ کا خصوصی رحم و کرم ہے جو کورونا وائرس سے محفوظ ہے تاہم حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں کیونکہ کورونا وائرس عالمی وباء ہے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے مریض سامنے آرہے ہیں جن میں کئی ایک کی اموات بھی ہوچکی ہیں بنوں ڈویژن یعنی بنوں ، لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کیلئے 1360 بیڈز کا انتظام کیا گیا ہے بنوں میں 457 ، لکی مروت میں 240 اور شمالی وزیرستان میں 610 بیڈز شامل ہیں جن میں کورونا وائرس کے شکار مریضوں کیلئے بنوں ڈویژن میں 596 بیڈز کا انتظام موجود ہے جہاں پر ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کو ضرورت کی تمام آوزار فراہم کردی گئی ہیں کورونا وائرس کو پھیلائو سے روکنے کیلئے بنوں ڈویژن میں 4007 سکولز ، 504 دینی مدارس ، 3 یونیورسٹیز، ہاسٹلز ، 27 کالجز، کھیل کود کے 7 پارک کو بند کر دیئے گئے ہیں جس میں وفاق المدارس بھرپور تعاون کررہی ہے اسی طرح تبلیغی مراکز کے مشران نے خصوصی تعاون کرتے ہوئے تمام سرگرمیاں معطل کردی ہیں اس موقع پرایم ٹی آئی بورڈ آف گورنر کے چیئرمین ڈاکٹر فرید انور ، ممبر ڈاکٹر عبدالمجید خان اور سیکرٹری ٹو کمشنر اکرام اللہ خان بھی موجود تھے کمشنر عادل صدیق نے کہا کہ لوگ عام بیماری کیلئے اختیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں عوام کو چاہیے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے بتائی جانیوالی اختیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں کیونکہ یہ مرض مل جل ، مصافحہ سے فوراً لاحق ہوجاتا ہے لہذا عوام خود کو اپنے گھروں تک محدود کریں اس کیلئے بین الاضلاع پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کردی گئی ہے صوبائی حکام کو وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ضروریات سے آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ مخیر حضرات بھی آگے آکر اپنے زکواة خیرات اور عطیات حکومت کو بنک کے ذریعے ادا کرسکتے ہیں بنوں کے دو مریضوں کے نمونے پشاور لیبارٹری ارسال کر دیئے گئے ہیں جبکہ بیرون ممالک سے آنے والے تبلیغی دوستوں کیلئے الگ تلگ رہنے کیلئے انتظامات اُٹھائے گئے ہیں۔

بنوں شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments