نسلہ ٹاور کیس میں تحقیقات پیش نہ ہونے پر،واسا واسا میں ڈپٹی ڈائریکٹرفنانس اینڈ کمرشل کو پولیس نے حراست میں لے لیا

اتوار 23 جنوری 2022 00:25

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2022ء) نسلہ ٹاور کیس میں حراست میں لئے گئے کے ڈی اے کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسر محمد وسیم کو ادارہ ترقیات حیدرآباد کے شعبہ واسا میں ڈپٹی ڈائریکٹرفنانس اینڈ کمرشل اس وقت تعینات کیا گیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔گریڈ 18کے ادارہ ترقیات حیدرآباد کے شعبہ واسا کے ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ اینڈاکائونٹس کو فیروزہ آباد پولیس نے حراست میں لیا ہے کیونکہ وہ نسلہ ٹاور کیس میں تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہو رہے تھے،نسلہ ٹاور کی تعمیر کی منظوری کے دوران محمد وسیم کے ڈی اے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ تھے اور مبینہ طور پر ان کے ذریعے ہی نسلہ ٹاور پروجیکٹ کی فائل بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو گئی تھی،بتایا گیا ہے کہ کراچی میں تعیناتی کے دوران محمد وسیم کو جعلی لیز آرڈر جاری کرنے پر کمشنر شعیب احمد نے معطل کر دیا تھا اور ان کا کیس اینٹی کرپشن کو بھیج دیا گیا،گذشتہ سال نومبر کے شروع میں ادارہ ترقیات حیدرآباد کے سیکریٹری نے محمد وسیم کو شعبہ واسا میں ڈیپوٹیشن پر ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ اکائونٹس تعینات کیا تھا جبکہ عدالت عظمی کی طرف سے ڈیپوٹیشن پرتعیناتیوں پر پابندی عائد تھی،تھانہ فیروز آباد کراچی کی ٹیم نے محمد وسیم کی گرفتاری کے لئے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا تو وہ ذرا پہلے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے مگر بعد میں ادارہ ترقیات کے سینئر افسران سے مشورے کے بعد وہ تھانہ جی او آر میں پیش ہو گئے اور کاغذی کاروائی مکمل کر کے انہیں فیروز آباد پولیس ساتھ لے گئی۔

(جاری ہے)

خیال ہے کہ نسلہ ٹاور کیس میں تحقیقات سے بچانے کے لئے ہی محمد وسیم کو اعلی سطح سے ملنے والی ہدایت پر کے ڈی اے سے ڈیپوٹیشن پر ادارہ ترقیات حیدرآباد میں ڈیپوٹیشن پر لگایا گیا تھا۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments