نیوٹیک تربیتی پروگراموں میں سانحہ مستونگ کے متاثرہ خاندانوں کے زیادہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے، نگران وزیراعظم

وزارت ایک جامع اور مربوط نظام وضع کرے تاکہ آئین کے آرٹیکل پچیس اے کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جا سکے جسٹس (ر)صر الملک کی وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ہدایت

منگل جولائی 17:53

نیوٹیک تربیتی پروگراموں میں سانحہ مستونگ کے متاثرہ خاندانوں کے زیادہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 جولائی2018ء) نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصر الملک نے وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ہدایت کی ہے کہ نیوٹیک کے تربیتی پروگراموں میں سانحہ مستونگ کے متاثرہ خاندانوں کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شامل کیا جائے تاکہ وہ روزگار کمانے کے قابل ہو کر اپنے خاندانوں کی مالی معاونت کر سکیں۔ انہوں نے یہ بات منگل کو وزیراعظم آفس میں وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے بارے میں بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محمد یوسف شیخ نے وزیراعظم کو وزارت کی کامیابیوں اور مینڈیٹ کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2018کو وزارت کی طرف سے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ملک بھر میں نصاب کی معیار بندی کے لئے قومی نصاب کونسل بھی قائم کر دی گئی ہے۔ اسی طرح وزارت نے قومی نصاب ڈھانچہ وضع کیا ہے جو نصاب میں ہم آہنگی کے لئے ایک ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔

بتایا گیا ہے کہ پری ۔ 1 سے گریڈ 8 کے لئے وفاقی سطح پر وزارت کی طرف سے نیا نصاب وضع کیا گیا ہے۔ اس نصاب سے صوبوں کو آگاہ کیا جائے گا جنہیں اپنی درسی کتب پر نظرثانی اور انہیں بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور مقامی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کے لئے نیوٹیک(این اے وی ٹی ٹی سی) کے کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

وزیراعظم نے وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ مستونگ دھماکے کے متاثرہ خاندانوں کے نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو نیوٹیک کے تربیتی پروگراموں میں شامل کیا جائے تاکہ وہ روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں اور اپنے خاندانوں کی مالی معاونت کر سکیں۔ وزیراعظم نے وزارت کو یہ بھی ہدایت کی کہ وزارت ایک جامع اور مربوط نظام وضع کرے تاکہ آئین کے آرٹیکل پچیس اے کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جا سکے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments