اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںن لیگ کاوزیراعظم کے انتخاب پراحتجاج کا فیصلہ آج احتجاج نہ کیا تودھاندلی ..

ن لیگ کاوزیراعظم کے انتخاب پراحتجاج کا فیصلہ

آج احتجاج نہ کیا تودھاندلی کا بیانیہ کمزورہوجائےگا، احتجاج کے ذریعے نوازشریف کے بیانیئےکو تقویت دی جاسکتی ہے۔ صدر ن لیگ شہبازشریف کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 اگست 2018ء): پاکستان مسلم لیگ ن نے وزیراعظم کے انتخاب پراحتجاج کا فیصلہ کرلیا ہے، آج احتجاج نہ کیا تودھاندلی کا بیانیہ کمزور ہوجائے گا، احتجاج کے ذریعے نوازشریف کے بیانیئے کو تقویت دی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں بھرپور اوپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرلیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف کی صدارت میں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم کے انتخاب کے فوری بعد احتجاج کرنے اور ن لیگ کے نامزد امیدوار کو ووٹوں سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرارکان اسمبلی نے صدر ن لیگ شہبازشریف سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کے انتخاب پراحتجاج کیا جائے۔

(خبر جاری ہے)

آج احتجاج نہ کیا تودھاندلی کا بیانیہ کمزور ہوجائے گا۔

احتجاج کے ذریعے نوازشریف کے بیانیئے کو تقویت دی جاسکتی ہے۔شہبازشریف نے وزیراعظم کے انتخاب کے فوری بعد احتجاج پررضامندی ظاہر کردی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پراحتجاجی مظاہرے کا فیصلہ ارکان اسمبلی کے مطالبے پرکیا گیا۔ اس سے قبل شہبازشریف نے وزیراعظم کا الیکشن فکس قرار دے دیا۔ انہوں نے ایک سوال پر’پیپلزپارٹی اور آپ کی راہیں جد کیوں ہوگئیں؟‘کے جواب میں کہا کہ اس سوال کا جواب بھی پیپلزپارٹی سے پوچھیں۔

کیا پیپلزپارٹی اور آصف زرداری آپ کو ووٹ دیں گے؟ جس پرشہبازشریف نے کہا کہ اس کا جواب بھی پیپلزپارٹی سے پوچھ لیں۔ان سے جب یہ سوال ”کیا حکمت عملی اختیار کریں گے؟“کیا گیا تواس پرشہبازشریف نے کہا کہ آپ بتا دیں کیا حکمت عملی اختیار کی جائے؟دوسری جانب پارلیمنٹ میں وزارت عظمیٰ کے انتخاب سے قبل صدر مسلم لیگ ن شہبازشریف کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کااجلاس ہوا۔

جس میں وزارت عظمیٰ کے انتخاب سے متعلق حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔واضح رہے الیکشن 2018ء کے بعد آج ملک کے 22ویں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف عددی لحاظ سے بڑی جماعت ہے، پی ٹی آئی نے عمران خان کووزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کررکھا ہے۔ اسی طرح دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے ، ن لیگ نے وزارت عظمیٰ کیلئے شہبازشریف کو نامزد کررکھا ہے۔

خفیہ رائے شماری کے ذریعے تحریک انصاف نے اپنا اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کروا لیا ہے۔ آج قومی اسمبلی میں پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کیلئے انتخاب ہوگا۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ان کے پاس 180سے زائد نمبرز موجود ہیں۔جبکہ اپوزیشن اتحاد میں وزیراعظم کے امیدوار کی نامزدگی کے معاملے پر دراڑ پڑ گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے شہبازشریف کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔جس پر مسلم لیگ ن کواب پیپلزپارٹی کے ووٹ نہیں ملیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں