پاکستان کی معیشت کو ٹرانسفارم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے روزگار کے مواقع سے استفادہ کیلئے نوجوان آگے بڑھیں

وفاقی وزیر سیّد امین الحق اور اسد عمرکا بائیکیا کی سرمایہ کاری انائونسمنٹ کی تقریب سے خطاب

جمعرات اکتوبر 01:50

اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سیّد امین الحق اور وزیر منصوبہ بندی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو ٹرانسفارم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے روزگار کے مواقع سے استفادہ کیلئے نوجوان آگے بڑھیں۔

وہ یہاں موٹر سائیکل کے ذریعے سواری اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی بائیکیا کی طرف سے 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی انائونسمنٹ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ بائیکیا کی سہولت کراچی کیلئے نعمت ہے، بڑا شہر ہے مگر وہاں ٹرانسپورٹ کا نظام تباہ ہو چکا ہے، بائیکیا سروس کراچی، لاہور، راولپنڈی کے بعد حیدرآباد، پشاور، فیصل آباد، ملتان سمیت دیگر شہروں میں بھی فراہم کی جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام کی سہولیات دور دراز کے علاقوں میں فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اسد عمر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی معیشت کو ٹرانسفارم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، نوجوان پاکستان کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور آگے بڑھنے کیلئے راستے بنائیں۔

اس موقع پر بائیکیا کے سی ای او منیب مائر نے کہا کہ بائیکیا پاکستان میں اپنی سہولت کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کرتی ہے، بائیکیا انٹرنیٹ کے ذریعے کئے جانے والے کاروبار میں سے واحد کاروبار ہے جو اردو زبان میں خدمات پیش کرتا ہے اور عوام کو اردو یا دیگر مقامی زبانوں میں سہولت فراہم کرنے سے ہمیں مدمقابل کمپنیوں کی نسبت زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے، اسی سوچ سے بائیکیا میں پارٹ ٹائم کرنے کے خواہشمند موٹر سائیکل مالکان کو اضافی آمدن کمانے میں بھی مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمارا برانڈ بطور بائیک ٹیکسی سواری اور 30 منٹ میں ڈیلیوری کرنے کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ سرمایہ کاری ہمیں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے میں مدد دے گی تاکہ ہم اپنی جیت کو اسی طرح برقرار رکھ سکیں۔ بائیکیا کی سروس کراچی، راولپنڈی اور لاہور میں دستیاب ہے جن کی مجموعی آبادی 30 ملین ہے، ان تینوں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت زار سب کے سامنے ہے جبکہ یہ تینوں شہر دنیا کے پانچویں بڑے آبادی والے ملک کی معیشت کو چلانے کے مرکز ہیں۔

موٹر بائیکس دراصل کوریئرز، ای کامرس ریٹیلرز اور ریسٹورنٹس کیلئے سامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موٹر سائیکل مالکان کی تعداد 17 ملین ہے جو کاروں سے چار گنا زیادہ ہے۔ بائیکیا ملک کے لاکھوں لوگوں کو موٹر سائیکل کے ذریعے روزگار کی فراہمی اور متوسط طبقہ کے لوگوں کیلئے سواری اور سامان کی ترسیل کیلئے سستی اور تیز رفتار سہولت فراہم کرتی ہے۔

چیف انویسمنٹ آفیسر پروسس فہد بیگ نے کہا کہ آنے والے سالوں میں مڈل کلاس طبقہ میں تیزی سے اضافہ ہو گا وہیں انٹرنیٹ کی سروسز کا فروغ بھی بڑھے گا۔ یہی فروغ بائیکیا جیسی کمپنیوں کو عظیم موقع فراہم کرتا ہے جو ٹیکنالوجی کے حامل پلیٹ فارم کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن، سامان کی نقل و حمل اور رقم کی ادائیگیوں جیسی معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہیں۔ بائیکیا کو ملک میں پہلے ہی شاندار پذیرائی ملی ہے اور ہماری سرمایہ کاری سے یہ بائیکیا کو پاکستان کو سپر ایپ بنانے کا عزم پورا کریں گے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments